پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲
سوال
جناب عالی کی خدمت میں مؤدبانہ التماس ہے کہ میں ایک ذاتی معاملے میں کافی دباؤ اور پریشانی کی حالت میں رہتا ہوں۔ لاکھ کوشش کے باوجود حالت جوں کی توں رہتی ہے۔ اس لیے اپنی خاص دعاؤں میں ناچیز کو یاد کر کے اس معاملے کی درستی میں ہمارے مسیحا بنیں۔ (محمد طاہر، شوپیاں، کشمیر) جواب دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی متعین طور پر اصل بات لکھے، تاکہ سائل کے لیے دعا کے کی مشور نہیں ہو سکتا۔ اصل بات معلوم کر کے دعا کی جا سکتی ہے اور صحیح مشورہ دیا ساتھ ضروری مشورہ بھی دیا جا سکے ۔ اصل واقعہ معلوم کیے بغیر نہ دعا کی جاسکتی ہے اور نہ صحیح مشورہ دیا جا سکتا ہے ۔
میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگ کسی ذاتی نادانی کی بنا پر اپنے آپ کو ایک مصیبت میں پھنسا لیتے ہیں ، اور اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کیجئے ۔ اس طرح کے معاملے میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ واقعے کی اصل نوعیت بتائی جائے ، تا کہ صحیح مشورہ دیا جا سکے ۔ دوسری بات یہ کہ دعا کوئی لامحدود چیز نہیں۔ دعا کے معاملے میں آدھا کام خود سائل کو کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد بقیہ آدھے کام کے لیے خدا سے دعا کی جاتی ہے۔ اس کے بغیر دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
سوال
میں مختلف قسم کے فکری سوالات میں الجھا رہتا ہوں ۔ میرے پاس مطالعے کا وقت نہیں کہ اپنے کیا جا سکے۔ اسکول کے سالانہ جلسے میں ہر ایک کو باری باری مقام دیا جاتا ہے اور سب کو صحیح بات کا سوالات کا جواب پاسکوں ۔ ایسی حالت میں میں کیا کروں۔ مزید یہ بتائیے کہ مطالعے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ (محمد تاج رضا)
)ماہنامہ (مہنگا مداس رضا جواب اگر آپ کے پاس مطالعے کے لیے وقت نہیں ہے تو آپ کو سوال اور جواب میں بھی اپنے ذہن کو الجھانا نہیں چاہیے جتنا آپ کا علم ہے، اس کے مطابق نیک نیتی کے ساتھ عمل کرتے رہیے۔ پے۔ پے، تو تپ، تاپ، ٹاپ، ٹپ، پاٹ، پاپ، تات، پات۔
میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues