Al-Risala · June 2007 · page 33

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

مطالعے کا کوئی فریم ورک نہیں۔ آپ کو جو کتاب ملے اس کو پڑھیے۔ اگر وہ کتاب آپ کو مفید معلوم ہو تو مطالعہ جاری رکھیے، ورنہ اس کا مطالعہ چھوڑ دیجیے۔ پیشگی طور پر مطالعے کا کوئی فریم ورک مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی طاقت کے بقدر کام کرے۔ طاقت یا وسعت سے زیادہ کرنے کا کوئی آدمی مکلف نہیں ہے۔ دین میں اصل اہمیت نیک نیتی اور اخلاص کی ہے۔ بقیہ چیزیں اضافی حیثیت رکھتی ہیں۔

سوال

آج تک میں نے جو بھی کتابیں پڑھیں مجھ پر اُن کا وہ اثر نہ ہوا جو آپ کی تحریروں نے کیا۔ آج عالم یہ ہے کہ جب میں کسی الجھن میں ہوتا ہوں تو آپ کی کوئی تحریر پڑھ لیتا ہوں ۔ اور مجھے سکون مل جاتا ہے۔ جب میرے ہاتھ میں آپ کی کوئی کتاب ہوتی ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا میرا رہبر میرے ساتھ ہے۔

میں اس سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میرے اوپر عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ کسی بات کا اثر فوری طور پر اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ میں اس میں نڈھال ہو جاتا ہوں ۔ اور میری حالت عجیب ہو جاتی ہے۔ پھر دھیرے دھیرے وہ اثر بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ مستحکم ہو کر کوئی فیصلہ نہیں لے پا تا ہوں ۔ نہیں چاہتا کہ فضول باتیں میرے ذہن کو منتشر کریں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود عجیب عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ مثلاً کرکٹ اسٹار سوربھ گانگولی کو ٹیم سے کیوں نکال دیا گیا تھا۔ دھونی کو ٹیم سے باہر رکھنا چاہیے۔ دنیا ان لوگوں کے پیچھے اتنا بھاگتی کیوں ہے۔ سونیا گاندھی پی ایم کیوں نہیں بنیں، من موہن سنگھ کو پی ایم کیوں بنایا گیا۔ امیتابھ بچن کو اب فلموں میں کام کرنا چاہیے ۔ اشور یہ سے ابھشیک کی شادی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ اس دور کے بڑے لوگ کس طرح اپنی زندگی گزارتے ہیں ان کے رہنے سہنے کا تصور ذہن کو بھٹکاتا رہتا ہے۔ کیا میرا بھی نام اس دنیا میں ان لوگوں کی طرح کبھی روشن ہو سکے گا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page