پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴
میں نے یہ سب باتیں آج تک نہ کسی کو بتایا نہ لکھا لیکن میرا دل ودماغ آپ کو یہ باتیں بتانے پر مجھے مجبور کر رہا ہے اس لیے آپ کو لکھ رہا ہوں۔ آخر یہ سب میرے ساتھ کیوں ہوتا ہے۔ دنیا اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہے پھر میں کیوں کر ان کا تصور اپنے ذہن میں لیے پھرتا ہوں ، ایسا کیوں ہوتا ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ اگر میرے اس مسئلے کا حل آپ کے پاس نہ ہوگا تو کسی دوسرے کے پاس ہرگز نہ ہوگا۔ (محمد نثار احمد، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)
جواب
زندگی کے کچھ حتمی اصول ہیں۔ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اصولوں کی پیروی کرے ۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی کرنا، اپنی زندگی کو تباہ کر لینے کے ہم معنیٰ ہے۔ زندگی کے انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جس کو حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے — مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ المرءِ تركہ مالا یعنیہ (مسند احمد، ابن ماجہ، مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 4840) یعنی آدمی کے بہتر مسلم ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ اُن چیزوں کو چھوڑ دے، جس میں اُس کے لیے کوئی فائدہ نہیں۔
آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اس اصول حیات کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ آپ یہ کیجیے کہ ضروری اور غیر ضروری میں فرق کرنا سیکھیے۔ اپنے وقت اور اپنے دماغ کو صرف اُن چیزوں میں صرف کیجیے جو آپ کی ترقی کے لیے ضروری ہیں، بقیہ چیزوں کو اپنے دماغ سے نکالتے رہیے۔ اسی اصول کو جارج برنارڈ شا نے اپنے لفظوں میں اس طرح بیان کیا تھا:
”سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلانے کے لیے کچھ نہ ہو“۔ سوال ہم حلقۂ الرسالہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کر رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں چوں کہ مراٹھی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہے۔ اس لیے آپ کی کتابوں کے مراٹھی ترجموں کی اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues