Al-Risala · June 2007 · page 35

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵

ہمارا خیال ہے کہ جناب عبد السلام چاؤش (ناگ پور) جو مراٹھی زبان پر کافی عبور رکھتے ہیں اور جنھوں نے چاؤش ڈکشنری (مراٹھی۔ انگریزی) اور کئی کتابیں تصنیف کی ہیں، اس کام کے لیے موزوں اور مناسب آدمی ہیں۔ براہِ کرم آپ ان کے ذمّے یہ کام سپُرد فرمائیں، تاکہ مہاراشٹر کے غیر مسلموں کی اہم ضرورت پوری ہو اور غیر مسلموں میں دعوتی کام میں آسانی ہو سکے۔ الحمد للہ آپ کی کتب انگریزی، عربی، اردو، ہندی اور دیگر عالمی زبانوں میں چھپ رہی ہیں لیکن مراٹھی داں طبقہ اس سے محروم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اس طرف توجہ فرمائیں گے۔

اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ آپ کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے تاکہ آپ کی رہبری اور رہنمائی میں ہم دعوت کے عظیم الشان کام کو کر سکیں ۔ (حافظ زبیر احمد، ناندیڑ) جواب عرض یہ ہے کہ دوسروں کے لیے تجویز پیش کرنا کوئی کام نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ دستیاب وسائل کے دائرے میں آدمی اپنا کام شروع کردے، اور بقیہ معاملے کے لیے وہ خدا سے دعا کرتا رہے۔ وسائل کی کمی کا حل تجویز پیش کرنا نہیں ہے، بلکہ دعا اور کوشش کرنا ہے۔ آج کل یہ عام مزاج بن گیا ہے کہ لوگ ہر معاملے میں تجویز پیش کیا کرتے ہیں۔ تجویز کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی ذمے داری کو دوسرے کے سر ڈال کر یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر دیا۔ حالاں کہ یہ محض خوش خیالی ہے۔ صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ بقدر استطاعت اپنی ذمے داریوں کو ادا کرتے تھے۔ وہ دوسروں کے لیے کوئی تجویز پیش نہیں کرتے تھے۔ یہی طریقہ صحیح اسلامی طریقہ ہے۔ سوال میری عمر 29 سال ہے۔ شادی ہوئے قریب دو سال ہو گئے ۔ ایک بچہ بھی ہے۔ میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں۔ لیکن میری شادی شہر میں رہنے والی لڑکی سے ہوئی ہے۔ میری سمجھ سے میری بیوی کسی بھی طرح عقل مند نہیں ہے۔ ہمارے گھر والے اس کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ لیکن وہ جب سے میرے گھر آئی ہے گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتی۔ ذرا ذرا سی بات پر غصہ کرنے لگتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page