پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶
اور کسی بات کا فوراً الٹا جواب دے دیتی ہے۔ اس کے ذہن میں ذرا سا بھی اس بات کا اثر نہیں رہتا کہ ہم سسرال میں ہیں اور سسرال والوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ بھی الٹی سیدھی بات بول جاتی ہے۔ لاکھ سمجھاؤ لیکن وہ اپنی عادت سے باز نہیں آتی۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ امیر باپ کی بیٹی ہے۔ بلکہ مالی اعتبار سے ہم دونوں گھر والے یکساں ہیں۔ آخر یہ اس کی نادانی ہے یا اس کا غرور کہ گھر میں کسی کو کچھ نہیں سمجھتی حالاں کہ کئی بار ہم نے اس کو مارا بھی۔ لیکن پھر بھی اُس کی عادت میں ذرا سا سدھار پیدا نہیں ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عقل مند عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن میرا کیا ہوگا۔ میری زندگی کیسے گزرے گی۔ (ایک قاری الرساله، جھارکھنڈ) جواب آپ کا خط مورخہ یکم اگست 2006 ملا۔ اس کو میں نے غور سے پڑھا۔ میرے نزدیک اس معاملے میں ساری غلطی صرف آپ کی ہے، کسی اور کی۔ نہیں 1 - عقل مند عورت، ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتی۔ اس کو تربیت دے کر عقل مند بنانا پڑتا ہے۔ میرے اندازے کے مطابق، آپ نے یہ کام نہیں کیا۔
2 - قرآن میں عورت کو تنبیہ کے لیے علامتی ضرب کی اجازت، استثنائی طور پر، صرف اُس وقت ہے جب کہ اس کے اندر نشوز (النساء: 34) پایا جائے۔ آپ نے جو اپنی بیوی کو مارا تو بلا شبہہ اس کا سبب نشوز نہیں تھا۔ اس لیے آپ نے بلا شبہہ ایک سخت غلط کام کیا ہے۔ آپ اس کی تلافی کے لیے فوراً اپنی بیوی سے معافی مانگیے اور خدا سے اُس کے لیے توبہ کیجیے۔ 3 - اپنے تجربے کے مطابق، میں یہ سمجھتا ہوں کہ بیوی سے آپ کی شکایت کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ آپ کے والدین کی خدمت نہیں کرتی۔ میرے نزدیک، آپ کا یہ مطالبہ بھی غلط ہے۔ کیوں کہ شوہر کے والدین کی خدمت کرنا، بیوی کے شرعی فرائض میں شامل نہیں۔
4 - آپ نے لکھا ہے کہ میرے گھر والے میری بیوی کو بیٹی کی طرح مانتے ہیں۔ یہ بات بلاشبہہ غلط ہے۔ آپ نے صرف یہ کیا ہے کہ گھر والوں کے بولے ہوئے لفظ کو یک طرفہ طور پر سن کر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues