نئی دہلی، ۱۳؍جون ۲۰۰۶ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷
۱۵۔ الاجتهاد في الشريعة الاسلامية۔
۱۶۔ أمتنا بين قرنين۔
لیکن مجھے نہیں معلوم کہ۔ اسلام اور عصرِ حاضر پر اسلامی نقطہ نظر سے گہرا علمی تجزیہ۔ کے آپ کے مطلوبہ معیار پر ان کی تحریریں یا ان کے افکار و نظریات پورا اترتے ہیں یا نہیں، اس لیے کہ مسائل کو دیکھنے کا ہر آدمی کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عملِ خیر اور خیرِ عمل کی زیادہ سے زیادہ توفیق نصیب فرمائے۔ ۷ اگست ۲۰۰۶ طالبِ دعا محمد شاہد خان ندوی، دوحہ، قطر مراسلہ نگار کا یہ طویل خط میرے اصل سوال کا جواب نہ تھا، اس لیے میں نے دوبارہ ان کو ایک خط روانہ کیا جس کا کوئی جواب موصوف کی طرف سے مجھے نہیں ملا۔ میرے اُس خط کی نقل یہاں درج کی جاتی ہے: برادرِ محترم مولانا محمد شاہد خان ندوی !
آپ کا خط مؤرخہ ۷ اگست ۲۰۰۶ ملا۔ عرض ہے کہ آپ کا یہ مکتوب میرے سوال کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) ہے۔ اس لیے دوبارہ میں آپ کو اپنا یہ خط لکھ رہا ہوں۔
اصل یہ ہے کہ ’’عصری مسائل‘‘ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دورِ جدید میں مسلمانوں کی فقہی ضرورت کی نسبت سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور دوسرے وہ جو وقت کے جدید عالمی ذہن کی پیداوار ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بہت سے فقہی نوعیت کے مسائل پیش آئے ہیں۔ مثلاً اسکینڈینیوینیا کے ملکوں میں نماز اور روزے کے اوقات کا مسئلہ، مغربی ممالک میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ کا مسئلہ، بینک انٹرسٹ اور انشورنس پالیسی کا مسئلہ، وغیرہ۔ یہ سب خالصتاً مسلم مسائل ہیں۔ ان مسائل پر ڈاکٹر یوسف القرضاوی اور دوسرے لوگوں نے بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر میرے سوال کا تعلق، اس قسم کے ’’عصری مسائل‘‘ سے نہیں۔ میرے سوال کا تعلق، ایک اور بات سے ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں انسانی ذہن میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ جدید عالمی ذہن سائنٹفک فریم ورک میں اسلام کی صداقت کو سمجھنا چاہتا ہے۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ کیا جدید سائنٹفک فریم ورک کی نسبت سے ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے کوئی علمی کام کیا ہے۔ اگر آپ کی مراد یہ ہے کہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے بعض جدید فقہی ضرورتوں کی نسبت سے کچھ مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے تو یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن اگر آپ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues