نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸
کی مراد یہ ہے کہ وقت کے فکری مستوی کے مطابق ، اسلام کو جدید عالمی ذہن کے لیے قابل فہم بنانے کی نسبت سے انھوں نے کوئی علمی کام کیا ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ جدید سائنٹفک فریم ورک کی نسبت سے بھی انھوں نے کوئی علمی کام انجام دیا ہے تو براہِ کرم ایسے کسی کام کا متعین حوالہ، کتاب کے نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ روانہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۹ اگست ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین مراسلت نمبر ـــــ ۹ مولانا محمد رابع حسنی ندوی (ناظم ندوۃ العلما، لکھنؤ) کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی رحمت‘‘ کا تعارف لکھتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کتاب جدید ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے عصری اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا موصوف سے درج ذیل مراسلت ہوئی: مکرمی و محترمی مولانا محمد رابع حسنی ندوی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ نے اپنی کتاب ’’مولانا سید ابوالحسن علی ندوی: عہد ساز شخصیت‘‘ (مطبوعہ: مجلس تحقیقات ونشریات اسلام، لکھنؤ) میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی کتاب ’’نبی رحمت‘‘ کے بارے میں لکھا ہے کہ: ’’اس میں سیرت نبوی کو اپنے ذوق اور رجحان اور رائج الوقت علمی نظریات کا تابع بنانے اور زندہ حقیقتوں اور منہ بولتی صداقتوں میں فلسفہ آرائی اور رنگ آمیزی سے کام لینے کے بجائے، اپنی حقیقی اور واقعی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نئی نسل کے فہم اور نفسیات کی موجودہ سطح اور عصری اسلوب کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۳۰۴)
میں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی کی مذکورہ کتاب عربی اور اردو دونوں زبانوں میں پڑھی ہے، مگر مجھے اس میں آپ کے مذکورہ بیان کی کوئی تصدیقی مثال نہیں ملی۔ مولانا علی میاں کی اس کتاب کے کس صفحے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نئی نسل کے فہم کی موجودہ سطح کو سمجھتے تھے، اور انھوں نے عصری اسلوب میں اس کا علمی تجزیہ کیا ہے۔ نیز ان کی کس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت کے فکری مستوی اور عصری اسلوب سے گہرائی کے ساتھ واقف تھے۔ براہِ کرم صفحہ نمبر کی تعیین کے ساتھ اس کے مکمل حوالے سے آگاہ فرمائیں۔
نئی دہلی، ۱۵ جون ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین
‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues