Al-Risala · June 2007 · page 37

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷

اس کو اپنے خط میں نقل کر دیا۔ آپ نے خود سے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کہ عملاً آپ کے گھر والوں کا رویہ آپ کی بیوی کے ساتھ کیا ہے۔ میں آپ کے اس بیان کو قطعی طور پر درست نہیں مانتا۔ 5۔ آپ کی اصل غلطی یہ ہے کہ آپ مشترک خاندان میں رہتے ہیں۔ آپ کو دو میں سے ایک کام کرنا چاہیے یا تو آپ الگ گھر لے کر بیوی کے ساتھ رہیں، یا آپ کو اگر مشترک خاندان میں رہنا ہے تو آپ یک طرفہ طور پر صبر کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ کو میرا مشورہ ہے کہ آپ میری دو کتابیں خاتونِ اسلام اور عورت معمار انسانیت کا مطالعہ فرمائیں۔

سوال

میرا یہ تیسرا خط ہے جو میں آپ کو لکھ رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں آپ سے جتنا متاثر ہوا ہوں کسی اور سے کبھی متاثر نہ ہو سکا۔

میں ایک غریب گھر کا نوجوان ہوں۔ میرے ماں باپ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ گھر کی آمدنی شروع سے لے کر اب تک بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے گھر میں ہمیشہ tension بنا رہتا ہے۔ مالی حالت اچھی نہ ہونے کے باوجود میرے والد نے مجھے .M.A تک کی تعلیم دلائی۔ اب ذریعہ معاش ڈھونڈنے کی فکر ہوئی۔ میں نے کئی جگہ سرکاری نوکری کی تلاش میں بھر پور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ اب ہمارے پاس اتنا پیسہ اور وقت نہیں رہا کہ سرکاری ملازمت کی خاطر امتحانات میں شریک ہوسکوں۔ ہمارا کوئی رشتے دار بھی کسی شہر میں نہیں رہتا کہ اُس کا سہارا لے کر میں کسی شہر میں جا کر کوئی private service کی تلاش کر سکوں۔ میری شادی بھی ہو چکی ہے۔ پریشانی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ دن رات پریشان رہتا ہوں۔ آخر کیا کروں ۔ مجھے راہ بتائیں ۔ (محمد نثار احمد، ہزاری باغ، جھارکھنڈ)

جواب

عرض یہ کہ زندگی کی کامیابی کا کوئی پر اسرار فارمولا نہیں ہے۔ زندگی ہر ایک کے لیے جدوجہد ہے۔ منصوبہ بند عمل ہی کسی کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page