پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸
آپ کے خط سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایم۔ اے کیا ہے۔ مجھے شک ہے کہ آپ نے ایم۔ اے کسی ایسے مضمون میں کیا ہے جس کی مانگ مارکیٹ میں موجود نہیں۔ اگر میرا اندازہ صحیح ہو تو یہ آپ کی منصوبہ بندی میں نقص کا ثبوت ہوگا۔
اب آپ کے لیے زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ آپ کے لیے صرف دو میں سے ایک صورت کا انتخاب ہے۔ یا تو آپ ایسا کریں کہ اپنی موجودہ لیاقت کی بنیاد پر آپ کو جو کام مل سکتا ہے آپ اس کو لے لیں، خواہ وہ کوئی چھوٹا کام کیوں نہ ہو۔ اور اگر آپ بڑا جاب چاہتے ہیں تو آپ کو پھر سے پیچھے کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یعنی آپ ایسی کوئی ڈگری حاصل کریں جو مارکیٹ میں اہمیت رکھتی ہو، یا ایسا کوئی ہنر سیکھیں جس کی بنیاد پر آپ کو آج کے زمانے میں کوئی اچھا جاب مل جائے۔ یاد رکھیے! غم اور ٹینشن میں جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ماضی کو بھلا کر مستقبل کے لحاظ سے از سر نو اپنا عمل شروع کیجیے، اور پھر یقیناً آپ کامیاب ہو جائیں گے۔
سوال
آپ کی کتاب ’’رہنما ئے حیات‘‘ پڑھ رہی ہوں۔ بہت اچھی کتاب ہے۔ آپ کی کتابیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد کسی اور کی کتاب پڑھ نہیں سکتی۔ دوسروں کی کتابیں طبیعت پر بھاری لگنے لگتی ہیں۔ جس دن الرسالہ آتا ہے میں اُسی دن اُسے پورا پڑھ لیتی ہوں۔ پھر روزانہ اس کا ایک ایک article پڑھتی ہوں ۔ آپ کی تحریریں پڑھ کر سوچ مثبت ہوتی ہے۔ اللہ پر توکل بڑھتا ہے۔ اور ہم اس دنیا میں امتحان کے لیے آئے ہیں، یہ احساس قوی ہوتا ہے۔ 1۔ ’رہنمائے حیات‘ صفحہ 204 ’صبر کا فائدہ‘ میں آپ نے لکھا ہے کہ فکری ارتقاء رُوحانی ارتقاء سے جُڑی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہے کہ فکری ارتقاء کے نتیجے میں مادی ترقی ہو رہی ہے۔ مگر جو لوگ مادی طور پر بڑھ رہے ہیں اُن میں رُوحانی ترقی نظر نہیں آتی بلکہ وہ زیادہ materialistic نظر آتے ہیں۔ اس کو ذرا واضح کر دیں کہ فکری ارتقاء اور رُوحانی ارتقاء میں کیسے ہم آہنگی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues