پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹
2 - شیطانی وسوسوں سے بچنے کا کیا حل ہے۔ سورہ الفلق اور سورہ الناس پڑھتی ہوں۔ کیا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ بھی ہے۔ (فرزانہ فیصل، کراچی)
جواب
1- آپ نے غالباً فکری ارتقاء کو تعلیمی ارتقاء کے معنی میں لے لیا ہے، مگر میرا مطلب یہ نہیں۔ تعلیمی ترقی کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ ڈگری یافتہ لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ مگر فکری ترقی کا مطلب ہے_ بصیرت کی ترقی، وزڈم کا بڑھنا اور شعوری ارتقاء۔ اس اعتبار سے ابھی ہمارا معاشرہ بہت پیچھے ہے۔ اس کی ایک پہچان یہ ہے کہ تعلیمی ترقی کے باوجود تمام لوگوں کے اندر منفی سوچ پرورش پارہی ہے۔ جب کہ حقیقی معنوں میں باشعور لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ ان کے اندر منفی سوچ کا خاتمہ ہوجائے۔ وہ پوری طرح مثبت سوچ والے انسان بن جائیں۔
روحانیت کا تعلق، ہمارے نزدیک قلب سے نہیں ہے بلکہ ذہن سے ہے۔ ذہنی ترقی جب مثبت انداز میں ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر وہ چیز بھی پیدا ہوتی ہے جس کو روحانی ترقی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکری ارتقاء لازمی طور پر روحانی ارتقاء سے جڑا ہوا ہے۔ فکر اور احساس کا منبع صرف مائنڈ ہے۔ اس لیے دوسری چیزوں کی طرح روحانیت بھی مائنڈ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ 2- آپ کے دوسرے سوال کے بارے میں عرض ہے کہ آپ راقم الحروف کی تفسیر تذکیر القرآن کا مطالعہ کریں۔
سوال
سورہ یس میں ایک آیت ہے_ تنزیل العزیز الرّحیم (یس: 5)۔ مجھے عربی پر مہارت تو نہیں، تھوڑا علم ہے۔ اسی تھوڑے علم کی بنیاد پر مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس آیت میں تنزیل کی جگہ تنزیل یعنی لام پر فتحہ کی جگہ پیش ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کئی عربی دانوں سے رجوع کیا مگر مجھے صحیح جواب ابھی تک نہیں مل پایا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ آپ اس کی صراحت کریں گے۔ جواب کے لیے مشکور ہوں گا۔ (رستم علی، پٹنہ، بہار)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues