Al-Risala · June 2007 · page 41

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱

علومِ قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں قیاسی منطق کا رواج تھا، اس کے تحت مفروضات کی بنیاد پر رائے قائم کی جاتی تھی۔ موجودہ زمانے میں مسلّمہ حقائق (established facts) پر رائے قائم کی جانے لگی۔ اسی سے سائنسی علوم پیدا ہوئے۔ سائنٹفک نقطۂ نظر مبنی بر حقائق نقطۂ نظر کا نام ہے۔ اس کے برعکس نقطۂ نظر وہ ہے جس کو مبنی بر مفروضات نقطۂ نظر کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ عام طور پر مشرقی اقوام میں سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ ان کے درمیان سائنٹفک نقطۂ نظر کا ارتقاء نہ ہوسکا۔ یہاں ایک تمثیل بیان کرنا، ایک شعر پڑھ دینا، یا ایک لفظی تک بندی پیش کر دینے کو بھی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ اس قسم کی چیزیں دلیل نہیں ہیں۔ چند مثالوں سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ ہندوستان کی آزادی (1947) کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو یہاں کے وزیر اعظم بنے۔ انھوں نے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے پانچ سالہ پلاننگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ملک کے اوپر بہت بڑے بڑے ٹیکس عائد کر دیے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ اتنے بڑے بڑے ٹیکس ملک پر کیوں لگا رہے ہیں تو انھوں نے ایک تمثیل کے ذریعے اس طرح اُس کا جواب دیا کہ گرمی کے زمانے میں نالوں اور ندیوں کا پانی بھاپ بن کر اُڑ جاتا ہے اور ہر طرف سوکھا نظر آنے لگتا ہے۔ مگر یہ پانی فضا میں جا کر بادل بن جاتا ہے اور دوبارہ زمین پر برستا ہے۔ اور زمین میں ہر طرف سرسبزی پھیل جاتی ہے۔ اسی طرح ہم جو ٹیکس لے رہے ہیں تو وہ مختلف ترقیوں کی صورت میں دوبارہ ملک کی طرف لوٹیں گے اور اس کی خوش حالی کو بڑھائیں گے۔ یہ ایک غیر سائنٹفک استدلال ہے جو واقعات پر نہیں بلکہ مفروضات پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ بھاپ اور بارش کا معاملہ فطرت کے اٹل قانون کے تحت ہوتا ہے۔ چناں چہ جب زمین کا پانی بھاپ کی صورت میں اوپر جاتا ہے تو اس کے بعد وہ فطرت کے لازمی قانون کے تحت دوبارہ زمین پر واپس آتا ہے اور یکساں طور پر سب کو سیراب کرتا ہے۔

مگر ٹیکس اور پلاننگ کا معاملہ اس سے یک سر مختلف ہے۔ یہاں ٹیکسوں کے ذریعے حاصل شدہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page