Al-Risala · June 2007 · page 42

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

دولت کچھ انسانوں کے پاس جمع ہوتی ہے۔ یہ سرکاری انسان اگر دیانت دارانہ طور پر اس کو لوٹائیں تو وہ عوام کی طرف لوٹے گی ورنہ وہ انھیں کی جیبوں میں رہ جائے گی۔ چناں چہ عملاً یہی ہوا۔ 60 سال سے زیادہ مدت سے نہایت بڑے بڑے ٹیکس عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ ملک کے تھوڑے سے با اختیار لوگ تو بہت زیادہ امیر ہو گئے اور ملک کی اکثریت کے حصے میں غربت اور مصیبت کے سوا کچھ نہ آیا۔

سوال

میرا نام فاضل محمد وانی، عمر تقریباً 31 سال ہے۔ میں نے M. Sc. Chemistry میں کیا ہے اور کچھ عرصے سے ایک کالج میں contact پر لیکچر رہا ہوں۔

محترم مولانا صاحب! جب بھی میں اپنے حال اور مستقبل کے متعلق سوچتا ہوں تو ایک بے چینی کی لہر دوڑتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے pattern of life سے مطمئن نہیں ہوں۔ اگر چہ اللہ کے فضل سے میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میں ایک اچھے مسلمان کی طرح زندگی گزاروں۔ مثلاً پانچ وقت نماز، روزہ، زکوٰۃ ادا کرنا، سودی معاملات نہ کرنا وغیرہ۔ لیکن ان سب کے باوجود میرے دل اور ذہن میں ایک خلش رہتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سب کافی نہیں۔ ایک تڑپ ہے جو کوئی outlet نہ ملنے کی وجہ سے کبھی کبھی مجھ کو بے بسی اور لاچارگی (اور شاید نا اُمیدی) کی انتہا تک پہنچادیتی ہے۔ میں شاید اپنے جذبات اور احساسات کی صحیح ترجمانی نہیں کر پاؤں گا۔ مختصرًا عرض کروں کہ میں ایک داعی بننا چاہتا ہوں۔ میں ہندوستان میں یا ہندوستان کے باہر غیرمسلموں میں اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس کو اپنا کیریر (career) بنانا چاہتا ہوں۔

تقریباً 2001 کی بات ہے کہ میں ہندوستان کے ایک دعوتی ادارے میں گیا اور اُن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ لیکن شاید میں اپنے آپ کو واضح نہ کر سکا اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ اس کے بعد میں نے وقفے وقفے سے South Africa کے دعوتی اداروں کو لکھا (میں صرف انھیں اخبار وغیرہ سے جانتا تھا) لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے CPS International کو لکھا، لیکن پھر وہی خاموشی رہی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page