پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳
اب میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ شاید یہ میری آخری کوشش ہوگی کیوں کہ اب میری حالت نا اُمیدی سے گزر کر frustration level تک آ رہی ہے۔ مولانا صاحب، میں خود کو ایک شکست خوردہ انسان محسوس کرتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ وہ آپ کا سینہ میرے لیے کھول دے اور آپ میرے متعلق اللہ کی مرضی سے وہ فیصلہ کر سکیں جو میری اس زندگی اور آنے والی زندگی کے لیے باعث رحمت ہو۔ (فاضل محمد وانی، سری نگر، کشمیر)
جواب
1 - دعوت ایک مشن ہے، دعوت کوئی کیریئر (career) نہیں۔ آپ اگر دونوں کے درمیان اس فرق کو سمجھ لیں تو آپ کا کنفیوژن اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ آدمی کے اندر اگر کیریئر کا مزاج ہو تو وہ کوئی خارجی نقشہ تلاش کرنے لگتا ہے جس کے اندر وہ اپنی جگہ پا سکے، لیکن صاحب مشن کو کسی خارجی نقشے کی ضرورت نہیں۔ اُس کی ذاتی تڑپ ہی اس کے لیے کافی ہو جاتی ہے کہ وہ جہاں ہے، وہیں وہ اپنا کام شروع کر دے۔
2 - اگر آپ دعوت الی اللہ کا کام کرنا چاہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ کام خود اپنے آپ سے شروع ہوگا۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ آپ اپنا مطالعہ بڑھائیں ۔ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری اعتبار سے حقیقی داعی بنانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ فکری تیاری کی ہوتی تو آپ ’’شکست خوردگی‘‘ کے احساس سے دوچار نہ ہوتے۔
3 - اس وقت ساری دنیا میں کہیں بھی صحیح معنوں میں دعوت کا کام نہیں ہو رہا ہے۔ ہر جگہ دعوت کے ساتھ مدعو سے نفرت اور شکایت بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ دعوت کا کام صرف الرسالہ مشن کے تحت ہو رہا ہے۔ اگر آپ واقعی دعوت کا کام کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مقام پر تعمیری ذہن کے تحت رہیے اور ماہ نامہ الرسالہ کی ایجنسی لے لیجیے۔ ہمارے یہاں سے اردو، ہندی اور انگریزی میں بہت سی چھوٹی اور بڑی دعوتی کتابیں چھپی ہیں، اُن کو لے کر اپنے آس پاس کے لوگوں میں پھیلائیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues