Al-Risala · June 2007 · page 44

پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

یاد رکھیے، دعوت کا کام ممکن سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ ناممکن کی طرف چھلانگ لگانے سے۔ سوال حال ہی میں ہمارے یہاں اپنی برادری میں ایک مسئلہ پیش آیا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک باپ کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک بیٹا دو بچے چھوڑ کر طویل علالت کے بعد چل بسا اور دوسرا بیٹا اگر چہ ابھی جوان اور غیر شادی شدہ ہے اور اس سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مرحوم بھائی کی بیوہ سے شادی کرلے تاکہ یتیم بچوں کو اپنے ہی گھر میں ایک باپ کا سایہ اور اچھی پرورش مل سکے مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور صاف صاف بیوہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور اب اس کی کسی اور لڑکی سے منگنی بھی ہو چکی ہے، نیز ان میں جو بھائی چل بسا وہ کچھ عرصے سے الگ مکان میں رہ رہا تھا اور وہ بڑے پیمانے پر کاروبار بھی کر رہا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا مرحوم کے بچے یعنی پوتے اپنے دادا کے اسی طرح وارث قرار پائیں گے جس طرح ان کا مرحوم باپ وارث تھا یا وہ اپنے باپ کے فوت ہو جانے کی صورت میں اپنے دادا کی میراث سے محروم رہیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ علماء سے بھی استفسار کیا گیا ہے اور انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی کی رو سے یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث سے بحیثیت وارث کچھ نہیں لے سکیں گے۔ لیکن اگر ان کا دادا چاہے تو وہ اپنے طور سے کچھ حصہ لکھ کر دے سکتا ہے یا ان کے حق میں 3 / کی حد تک وصیت کر سکتا ہے۔

میں نے اس مسئلے کے بارے میں اپنے طور سے بھی کئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے اور حاصل مطالعہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں کہ یتیم پوتے اپنے دادا کی میراث کے وارث نہیں ہیں، کے بارے میں تقریباً تمام فقہاء اور ائمہ اربعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ بلکہ بعض کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مسئلے کے بارے میں غلط فہمیاں اور شبہات منکرین حدیث نے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور جس سے وہ عام مسلمانوں کو ذخیرۂ حدیث سے بدظن کرتے ہوئے ان میں اپنے گمراہ کن خیالات پھیلانا چاہتے ہیں۔ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2007 All issues

Printed page