Al-Risala · July 2007 · page 4

دعا عبادت ہے

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۴

اس کی دعاؤں میں شامل ہو جائے گا۔ دعا اس کے لیے اپنے رب سے ملاقات کا لمحہ بن جائے گی۔ اس کی دعا اپنے رب سے سرگوشی (whisper) کے ہم معنی ہوگی، جیسا کہ حدیث میں آ ہے: يناجي ربه (مسند احمد)

اس کے برعکس، جس کا ایمان قلب میں اترا ہوانہ ہو بلکہ صرف لفظی اقرار کے ہم معنی ہو، اس کی دعا بھی صرف لفظی اور رسمی دعا ہوگی۔ وہ کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرائے گا مگر ان الفاظ کا اس کی قلبی کیفیات سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اس کی دعا صرف تلفظ لسانی کے ہم معنی ہوگی نہ کہ روحانی کیفیت کے اظہار کے ہم معنی۔

حدیث میں آیا ہے کہ جب تم اللہ سے دعا مانگو تو خوب لپٹ کر دعا مانگو۔ لپٹ کر دعا مانگنے کا مطلب کیا ہے، اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ یہ مثال بیٹے اور باپ کے معاملے سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر اس سے بندے اور خدا کے درمیان دعا کے معاملے کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ رام پور کا واقعہ ہے۔ وہاں ایک اسکول ماسٹر تھے۔ ان کی آمدنی زیادہ نہ تھی۔ اُن کے بیٹے کو بائیسکل کا شوق ہوا۔ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لیے ایک بائیسکل لے لیجیے۔ باپ نے کوئی جواب نہ دیا۔ بیٹا کئی دن تک اپنے اس سوال کو دہراتا رہا۔ مگر باپ اُس کو نظر انداز کرتا رہا۔ ایک دن بیٹے نے زیادہ اصرار کیا تو باپ نے غصہ ہو کر کہا کہ میرے پاس بائیسکل خریدنے کے لیے پیسہ نہیں۔ اب اگر تم نے بائیسکل کے لیے کہا تم میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر بیٹا رونے لگا۔ اُس نے روتے ہوئے کہا کہ۔ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں ۔

بیٹے کے یہ الفاظ سن کر باپ کی آنکھوں میں آنسو آگیے۔ اِس نے کہا کہ اچھا میرے بیٹے، میں ضرور تم کو بائیسکل دوں گا۔ اور پھر پیسہ کا انتظام کر کے اگلے دن اُس نے بائیسکل خریدی اور بیٹے کو دے دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب بیٹے نے مذکورہ الفاظ کہے تو گویا باپ اور بیٹا دونوں ایک تراز و پر آگیے۔ باپ نے محسوس کیا کہ اگر وہ بائیسکل کا انتظام نہ کرے تو گویا یا اُس

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page