پوائنٹ آف ریفرنس
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴
اسلام کو ماننے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ اس وقت کی آباد دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل گئے۔ ان مسلمانوں نے اپنی سرگرمیوں کے ذریعہ اسلام کی ایک تاریخ بنائی۔ انھوں نے بہت سی بڑی بڑی سلطنتیں قائم کیں ۔ مثلاً دولت بنواميہ، دولت عباسيہ، دولت فاطمیہ، اور پھر دولت مغلیہ، دولت عثمانیہ اور دولت اندلسیہ۔ ان کے علاوہ چھوٹی چھوٹی حکومتیں مختلف علاقوں میں اتنی زیادہ تعداد میں قائم ہوئیں جن کی گنتی سو سے بھی اوپر جاتی ہے۔ تاریخ بننے کا یہ زمانہ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا۔
اسلام کے ساتھ تاریخ کے اس اضافے نے ایک نیا مسئلہ پیدا کیا۔ اب یہ ہوا کہ بعد کے زمانے میں جولوگ اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے ان کے لیے پائنٹ آف ریفرنس عملاً بدل گیا۔ اب قریبی پائنٹ آف ریفرنس (immediate point of reference) تاریخ بن گیا نہ کہ قرآن اور حدیث۔ قرآن اور حدیث اسلام کا بے آمیز ماخذ تھا۔ جب کہ تاریخ میں بعد کی مسلم نسلوں کی آمیزش شامل ہوگئی۔
اب جو شخص اسلام کو اس کی واقعی حیثیت میں سمجھنا چاہے اس کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ بعد کی بننے والی تاریخ سے گزر کر پہلے دور میں پہنچے اور اسلام کو براہ راست خدا کی کتاب اور رسول کی سنت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرے ۔
موجودہ مسلم تاریخ ، اسلام کو سمجھنے کا مستند ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ تاریخ قدیم ذوق کے مطابق ، انتخابی (selective) انداز میں لکھی گئی ہے۔ قدیم زمانے میں تاریخ نگاری کا جو طریقہ رائج تھا وہ یہ تھا کہ سیاسی واقعات کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ سیاست یا سیاست سے متعلق واقعات ہی کے بیان کا نام تاریخ تھا۔ چنانچہ شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم مورخین نے بھی اسلام کی تاریخ اس نہج پر مرتب کی۔
ابن خلدون (وفات: 1406) نے اس نہج کو بدلنے کی کوشش کی مگر اس وقت تک تاریخ نگاری کا کام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ تمام کتابیں اسی قدیم نہج پر لکھی جاچکی تھیں۔ اس لیے یہ نہج بدستور
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues