Al-Risala · July 2007 · page 15

پوائنٹ آف ریفرنس

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

باقی رہا۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کو تاریخ کے بجائے قرآن اور حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے جو کہ اس کا زیادہ مستند اور مکمل مآخذ ہے جب کہ بعد کے مسلمانوں کی لکھی ہوئی تاریخ، اسلام کو سمجھنے کے سلسلے میں ایک جزئی مآخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال لیجیے۔ اسلام پر بعد کے دور میں کتا بیں لکھی گئی ہیں ان سب میں یہ انداز اختیار کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد سلسلہ وار اگلے واقعات درج کیے جاتے ہیں۔ مگر تاریخ کی ہر کتاب میں ایک مشترک کمی موجود ہے۔ اور وہ ہے پیغمبر اسلام کی غیر سیاسی زندگی کا تذکرہ بہت کم ہونا اور آپ کی زندگی کے سیاسی حصہ کا تذکرہ بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ کیا جانا۔

مکہ کی 13 سالہ مدت میں پیغمبر اسلام کی زندگی میں بہت سے واقعات پیش آئے مگر یہ سب کے سب غیر سیاسی نوعیت کے واقعات تھے، چنانچہ ان کا ذکر بہت مختصر طور پر ان تاریخی کتابوں میں ملتا ہے۔ اس کے برعکس مدینہ میں آپ صرف دس سال تک رہے مگر ان دس سالوں کے واقعات بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ ان کتابوں میں ملتے ہیں۔ یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کی نظر میں پیغمبر اسلام کی حیثیت پیغمبر شمشیر (Prophet of sword) کی بن گئی۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی فکری تشکیل اسی تاریخ کے زیر اثر ہوئی۔ ہر ایک کے افکار میں اسی تاریخ کا نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اقبال نے کہا:

ہر مسلماں رگِ باطل کے لیے نشتر تھا To every vein of falsehood every Muslim was a knife. ایک بار میں ایک مسلم پروفیسر کے لکچر میںشریک تھا۔ یہ لکچر انڈیا کے ایک شہر میںہوا۔ لکچر کے بعد حاضرین میں سے ایک شخص نے پوچھا کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ مسلم پروفیسر نے کچھ دیر سوچا اور اس کے بعد کہا کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرنتھ (Position of Strength) کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page