پوائنٹ آف ریفرنس
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
ماڈل تو موجود ہے مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈیسٹی(Position (Position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ مذکورہ مسلم پروفیسر نے یہ بات اس لیے کہی کہ اسلام کے حوالے سے وہ صرف بعد کو بننے والی تاریخ کو دیکھ رہے تھے نہ کہ براہ راست قرآن اور سنت کو۔ اگر وہ تاریخ میں اٹکے بغیر پیغمبر کے زمانے کو دیکھتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اسلام پورا کا پورا پوزیشن آف ماڈسٹی ہی کا ماڈل تھا۔ پیغمبر اسلام نہ صرف ابتدا کے 13 سال کی مدت میں کامل طور پر ماڈسٹی کا نمونہ بنے رہے بلکہ بعد کے زمانے میں جب جنگ اور فتح کے واقعات پیش آئے اس وقت بھی آپ کی روش ماڈسٹی کی روش تھی۔ مثال کے طور پر 8 ہجری میں جب مکہ فتح ہوا اور آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ اپنے اونٹ کی پیٹھ پر اس طرح جھکے ہوئے تھے جیسے کہ آپ سجدے کی حالت میں ہوں۔
مسلمانوں میں بعد کے زمانے میں جو ذہن پیدا ہوا وہ توحید کا ایک غلط تصور تھا۔ عام طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم موحد ہیں، ہمارا سر ایک خدا کے سوا کسی اور کے آگے جھکنے والا نہیں۔ اس جملے میں ایک مغالطہ چھپا ہوا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ توحید کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا سر ایک خدا کے سوا کسی اور نہ جھکے مگر یہ بات عبادت کے پہلو سے ہے نہ کہ اخلاق کے پہلو سے۔ عبادت کے پہلو سے مومن کا سر صرف ایک خدا کے سامنے جھکتا ہے مگر اخلاق کے پہلو سے اس کو ہر انسان کے مقابلہ میں تواضع (modesty) کا طریقہ اختیار کرنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سامنے جھکنا فخر یا اکڑ کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ وہ احساس عجز کی بنا پر ہوتا ہے اور عجز اور تواضع کی نفسیات جس آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ خدا کے سامنے جھکے اور انسان کے سامنے اکڑ دکھائے۔ اس کی نفسیات دونوں جگہ اس کو جھکا دے گی۔ وہ دونوں ہی پہلوؤں سے ایک متواضع انسان بن جائے گا۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کے سامنے کے سامنے جھکنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خدا کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ جو شخص بظاہر خدا کے سامنے جھکنے کا مظاہرہ کرے مگر جب انسان سے معاملہ پیش آئے تو وہ فخر اور اکڑ کی روش اختیار کرے ایسے آدمی کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ خدا کے سامنے بھی نہیں جھکا۔ خدا کا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues