You are only a warner, you are not an enforcer.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
کے آگے جھکنے کے نام سے اس نے جو کچھ کیا وہ ایک مصنوعی مظاہرہ تھا نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔ جو لوگ پیغمبر اسلام کی سیرت کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں ان کا تصور یہ بنتا ہے کہ پیغمبر اسلام گویا پیغمبر شمشیر (Prophet of sword) تھے، لیکن پیغمبر اسلام کی زندگی کو جاننے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا صحیح اور مستند ریکارڈ وہ ہے جو قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں کچھ مثالیں قرآن اور حدیث سے نقل کی جاتی ہیں۔ قرآن میں پیغمبر اسلام کی اصل حیثیت کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين (الأنبياء: 107) یعنی خدا نے اپنے پیغمبر کو دنیا والوں کے لیے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ رحمت (mercy) کا لفظ ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں اس نوعیت کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔ مثلاً شفقت، نرمی، محبت، ٹالرنس، ہمدردی، وغیرہ۔
اس طرح قرآن میں پیغمبر اسلام کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : فذكر إنما أنت مذكر، لست عليهم بمسيطر (الغاشيه: 21-22) یعنی تم لوگوں کو یاد دہانی کراؤ۔ تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر دارو غہ نہیں ہو:
You are only a warner, you are not an enforcer.
پیغمبر اسلام کی یہی تصویر حدیث سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام نے اپنے بارے میں کہا: بعثت لأتمم مكارم الأخلاق یعنی میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں:
I was sent to establish a society based on higher moral values. واقعات کے اعتبار سے اسلام کی تاریخ تین دوروں میں تقسیم ہوتی ہے۔ دورِ نبوت، دورِ اقتدار، دورِ زوال۔ دورِ نبوت وہ ہے جس کو اسلام کی پہلی جنریشن کہا جا سکتا ہے۔ اس زمانے کے مسلمان خدا کی دریافت کے تحت مسلمان بنے تھے۔ اس زمانے کے مسلمانوں میں جو اسپرٹ تھی اس کو ایک لفظ میں تقویٰ اسپرٹ کہا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر وہ تمام صفات تھیں جو تقویٰ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues