You are only a warner, you are not an enforcer.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸
کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں ۔ یعنی خدا پرستی، سنجیدگی، ذمہ داری کا احساس، حقیقت پسندانہ مزاج، مثبت طرزِ فکر، انصاف، انسانی مساوات، وغیرہ ۔
دوسرا دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں کی سلطنت بن گئی اور زمین کے بڑے رقبہ میں ان کی سیاسی بالا دستی قائم ہو گئی۔ اس دور کے مسلمانوں میں وہ صفات پیدا ہوگئیں جو اقتدار کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں ۔ مثلاً فخر، تکبر، عیش پسندی، غیر ذمہ داری، احساسِ برتری، وغیرہ ۔
مسلم تاریخ کا تیسرا دور مغربی قوموں کے اسی عروج سے شروع ہوتا ہے جس کو نو آبادیاتی نظام کہا جاتا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں کی سیاسی برتری ختم ہو گئی۔ وہ ایک قسم کی زیر دستی کی حالت میں پہنچ گئے ۔ ان حالات میں ان کے اندر وہ نفسیات پیدا ہوئی جس کو پیرانوئیا (Paranoia) کہا جاتا ہے ۔ یعنی ’پدرم سلطان بود‘ کی نفسیات۔ وہ اس احساس میں جینے لگے کہ کچھ لوگوں نے ان کی عظمت کو ان سے چھین لیا ہے۔
اس نفسیات کے نتیجے میں ان کے اندر وہ کمزوریاں پیدا ہوئیں جو زوال کا شکار ہونے والی قوموں کے اندر پیدا ہوتی ہیں یعنی ، احساس محرومی، شکایت، احتجاج، ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھنا۔ یعنی ہر واقعہ کو منفی رخ سے دیکھنا، ہر طرف سازش نظر آنا۔ انسانوں کا خیر خواہ نہ ہونا، نمائشی فخر، فرضی تمناؤں میں جینا، بہت جلد مشتعل ہو جانا، معمولی بات پر تشدد پر اتر آنا۔ اپنے سوا ہر ایک کو غلط سمجھنا، وغیرہ۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اسلام کے قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تا کہ اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں بطور مثال وہ کہتے ہیں کہ اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے۔ آج کی دنیا میں صنفی مساوات (gender equality) کا تصور چھایا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں آج کا ذہن چار شادی کے اصول کو تسلیم نہیں کر سکتا۔
مگر یہ صرف ایک غلطی فہمی ہے۔ اسلام میں ایک نکاح کا اصول ہی اصل ہے، ایک سے زیادہ شادی کی اجازت استثنائی صورت حال کے لیے ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ ایک کرائس مینج مینٹ (crisis management) کا طریقہ ہے نہ کہ کوئی عمومی قانون۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues