Mohmmad Hassan Nadwi
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹
اصل یہ ہے کہ بعض اوقات معاشرے میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ مثلاً جنگ پیش آنے کی حالت میں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب عورتیں معاشرے میں سرپلس (surplus) ہو جائیں تو اس وقت ان کے لیے کیا اصول مقرر کیا جائے ۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سرپلس ہونے کی صورت میں جو عورتیں غیر شادی شدہ حالت میں رہنا چاہیں ان کو اس کی اجازت ہے لیکن جو عورتیں نکاح کی خواہش مند ہوں وہ ایک سے زیادہ کی تعداد میں مردوں کے نکاح میں آجائیں اور اس طرح اپنی بقیہ زندگی شرافت کے ساتھ گزاریں۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ عورتوں اور مردوں کی تعداد میں فطرت ایک برابری (equilibrium) قائم رکھتی ہے۔ اگر کوئی ہنگامی صورت پیش نہ آئے تو معاشرے کے اندر عورتوں کی تعداد بھی تقریباً اتنی ہوتی ہے جتنی کہ مردوں کی تعداد۔ اس لیے عام حالت میں مردوں کے لیے ایک ہی شادی کا حکم ہے۔ عام حالت میں اگر کوئی مرد ایک سے زیادہ شادی کرتا ہے تو وہ ایک ایسا فعل کرتا ہے جو اس کے لیے حد سے تجاوز کرنے کے ہم معنی ہے۔ کیوں کہ ایسا کر کے وہ فطرت کے مساویانہ نظام میں خلل ڈالتا ہے۔ وہ دوسرے انسانوں کے حق میں تصرف کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے دوسرے کی ضرورت میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اس لیے اسلام میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت صرف ہنگامی حالت میں ہے نہ کہ عام حالت میں۔
لکھنؤ اور سہارن پور میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:
Mohmmad Hassan Nadwi
Star Mobiles & Electronics, Shop No. 6, Sabzi Mandi, Sattya Market, Sector: 17, Lucknow (U.P.) 226016 Mobile: 09305356090, Email: mhcps@yahoo.com Dr. Mohd. Aslam 3/1108, Dehradun Chawk Saharanpur-247001, U.P. Mob. 9997153735, Email: dr_aslm@rediffmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues