ذہنی تحفظ کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۰
ذہنی تحفظ کے بغیر
ہندوستان کے مشہور رہنما مہاتما گاندھی (وفات : 1948) نے ایک بار کلام کرتے ہوئے اپنے بارے میں کہا تھا کہ: میں اپنے گھر کی کھڑکیوں کو کھلا رکھنا چاہتا ہوں تاکہ باہر کی تازہ ہوا میرے گھر کے اندر آ سکے۔ مگر میں نہیں چاہوں گا کہ ہوا اتنی زیادہ آئے کہ وہ میرے گھر کو اڑا لے جائے: I want th windows of my house open so that fresh air may blow in but I would not like my house to be blown away. مہاتما گاندھی کے اس قول کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ لوگ عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کامل طور پر متعصب ہوں۔ وہ کسی ایک کے اس طرح اندھے مقلد بن جائیں کہ اس کے سوا کوئی اور چیز انھیں سرے سے نظر ہی نہ آئے۔ اس کو مکمل ذہنی جمود کی حالت کہا جاسکتا ہے۔ دوسری قسّم اُن لوگوں کی ہے جو جزئی طور پر جامد اور جزئی طور پر غیر جامد ہوں۔ وہ دوسرے افکار کو اپنے ذہن کے اندر آنے کی اجازت دیں۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اپنے مزاج میں اتنے پختہ ہو چکے ہوں کہ صرف جزئی تبدیلی کو وہ قبول کر سکیں۔ وہ اپنے اندر کسی انقلابی تبدیلی کے لیے راضی نہ ہوں۔ یہ دونوں قسم کے لوگ بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں زیادہ فرق نہیں۔ کیوں کہ اصل مقصود کامل سچائی ہے۔ اور جہاں تک کامل سچائی کا تعلق ہے، دونوں ہی اُس سے یکساں طور پر محروم رہیں گے۔ اور جو شخص کامل سچائی سے محروم ہو اُس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل بھی اپنی پوری رفتار کے ساتھ جاری نہیں ہو سکتا۔
کسی آدمی کے لیے کامل سچائی وہ ہے جس کو اُس نے کسی تحفظ ذہنی کے بغیر ہر اعتبار سے کھلے طورپر جانچا ہو۔ اور پھر زندہ شعور کے تحت اُس کا ذہن اس پر مطمئن ہوا ہو کہ اُس نے جس چیز کو اختیار کیا ہے وہ کسی اشتباہ کے بغیر بلاشبہ کامل سچائی ہے۔ جس چیز کی وہ ہر اعتبار سے جانچ ہی نہ کرے وہ خود اُس کے اپنے اقرار کے مطابق، اُس کے لیے کامل سچائی نہیں۔ اُس نے جس چیز کو سچائی کے طور پر لیا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues