ذہنی تحفظ کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۱
ہے وہ اُس کا ایک مانوس عقیدہ ہے، نہ کہ شعوری اعتبار سے ہر جانچ میں پورا اُترا ہوا عقیدہ۔ اس قسم کے جمود کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی عین اُس چیز سے محروم ہو جائے جو اُس کے لیے سب سے بڑی چیز ہے، یعنی اُس کے ذہن میں فکری ارتقاء کا عمل کسی روک کے بغیر جاری ہونا۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیکولر موضوعات پر تو کسی حد تک کھلے ذہن کے تحت سوچنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ مذہبی موضوعات کا ہو تو وہ کسی بھی طرح غیر متعصبانہ انداز میں سوچنے پر راضی نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ جو لوگ سیکولر موضوعات پر بظاہر اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھلی رکھے ہوئے ہیں وہ بھی اس وقت سختی کے ساتھ اپنے ذہن کی کھڑکیوں کو بند کر لیتے ہیں جب کہ کوئی مذہبی موضوع زیر بحث آ گیا ہو۔
میں نے اللہ کے فضل سے تمام مذاہب کا مطالعہ کیا ہے۔ میں خالص علمی مطالعے کے نتیجے میں اس پر مطمئن ہو گیا ہوں کہ اسلام ہی واحد مستند اور معتبر مذہب ہے۔ ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، ’اسلام ری ڈسکورڈ‘ (Islam Rediscovered)
مگر اسلام کو واحد مستند مذہب مانتے ہوئے بھی میں کہتا ہوں کہ ہم دوسرے مذاہب کا مطالعہ غیر متعصبانہ انداز میں کر سکتے ہیں اور اس مطالعے سے وہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں جس کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: الحكمة ضالة المؤمن حيث وجدها فهو أحق بها (حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے، وہ جہاں اس کو پائے وہ اُسی کا ہے)۔
مثال کے طور پر میں کہوں گا کہ آپ اپنے والد کو عزت کا اعلیٰ مقام دیتے ہوئے دوسرے انسانوں کو بھی قابل احترام سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے اپنے والد کے حق میں آپ کا اعلیٰ جذبہ کسی بھی طور پر متاثر نہیں ہوگا۔ اسی طرح ایک مومن دین اسلام کو واحد مستند دین مانتے ہوئے دوسرے مذاہب کا نہ صرف احترام کر سکتا ہے بلکہ اُن کے مطالعے کو وہ اپنے ذہنی ارتقاء میں مددگار بنا سکتا ہے۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ (comparative study) ایک مقبول موضوع ہے۔ مگر میرے علم کے مطابق، یہ مطالعہ زیادہ صحت مند انداز میں نہیں کیا جاتا۔ مثلاً عیسائی اور یہودی علماء اپنے تقابلی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues