Al-Risala · July 2007 · page 22

ذہنی تحفظ کے بغیر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲

مطالعے میں زیادہ تر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کوئی مستقل مذہب نہیں، وہ بائبل سے اخذ کیا ہوا ایک مذہب ہے۔

اسی طرح ہند و علماء جب مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں تو وہ اپنی ساری کوشش یہ ثابت کرنے پر لگا دیتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ اور ہر مذہب یکساں طور پر سچا اور برحق ہے۔ اسی طرح مسلم علماء جب مختلف مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرتے ہیں تو اُن کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ صرف اسلام سچا مذہب ہے۔ باقی تمام مذاہب باطل اور قابلِ رد ہیں۔ اس قسم کا مطالعہ جذباتی تسکین کا ذریعہ تو ہو سکتا ہے مگر وہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہرگز نہیں بن سکتا۔ صحیح اور علمی طریقہ یہ ہے کہ مذاہب کا تقابلی مطالعہ اس لیے کیا جائے کہ وہ خود صاحبِ مطالعہ کے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بن جائے۔ وہ صاحبِ مطالعہ کے ذہنی افق کو وسیع کر کے اُسے زیادہ سے زیادہ بلند ذہنی سطح تک پہنچانے میں مددگار بن سکے۔ یہاں اس معاملے کی چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح مختلف مذاہب کا مطالعہ کسی آدمی کے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 1- کنفیوشش (Confocious) چین کا مشہور فلسفی اور مذہبی اخلاقی مفکر ہے۔ اُس کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : جس کو ہارنا آجائے اُس کو کوئی ہرانہیں سکتا۔ کنفیوشش کے اس قول کی معنویت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اُس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والی صلح حدیبیہ کی روشنی میں دیکھا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ صلح حدیبیہ فریقِ ثانی کے مقابلے میں گویا شکست قبول کرنے کے ہم معنی تھی۔ مگر صرف دو سال کی محدود مدت میں اس شکست سے عظیم فتح ظاہر ہوئی۔

کنفیوشش کے مذکورہ قول میں ہار ماننا دراصل ایک قسم کی تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ مستحکم بنا سکے، یہاں تک کہ اُس کا بر تر استحکام ہی اُس کے لیے فتح کی ضمانت بن جائے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کی صورت میں پیش آیا۔

2- حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنے دشمن سے محبت رکھو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page