ذہنی تحفظ کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳
(لوقا، باب 6) حضرت مسیح کی یہ بے حد بنیادی تعلیم ہے۔ مگر اس قول کی پوری معنویت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اُن کے اس قول کا مطالعہ قرآن کی ایک آیت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے: اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجدہ: 34)
قرآن کی یہ آیت حضرت مسیح کے مذکورہ قول کی معنویت کو واضح کر رہی ہے۔ اس کے مطابق، دشمن سے محبت کرنا دشمنی کو ختم کرنے کی ایک برتر تدبیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر امکانی طورپر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ یک طرفہ حسنِ سلوک کے ذریعہ اس دشمن انسان کو دریافت کرو اور اس کے بعد مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
3- حضرت مسیح نے اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص تمھارا گر تالینا چاہے اُس کو تم اپنا چغہ بھی دے دو۔ (لوقا، باب 6)
حضرت مسیح کے اس قول کی اہمیت اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب کہ اُس کو قرآن کی ایک آیت سے ملا کر دیکھا جائے۔ وہ آیت یہ ہے: فلا يناز عنك في الأمر وادع إلى ربك (الحج: 67) یعنی پس وہ اس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ اور تم اپنے رب کی طرف بلاتے رہو۔ اس کے مطابق، حضرت مسیح کا مذکورہ قول آدابِ دعوت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک داعی کو چاہیے کہ اگر مدعو سے کسی معاملے میں اُس کی نزاع پیدا ہو تو وہ یک طرفہ طورپر اُسے ختم کر دے تا کہ داعی اور مدعو کے درمیان وہ معتدل فضا برہم نہ ہونے پائے جو مؤثر دعوتی عمل کے لیے ضروری ہے۔
4 - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے کہا کہ مجھے ایک ایسی کلیدی بات بتائیے جس کے ذریعہ میں اپنے تمام معاملات کو درست کر سکوں۔ آپ نے مختصر الفاظ میں اُس کا جواب دیتے ہوئے کہا: لا تغضب (تم غصہ نہ کرو)۔ اس قولِ رسول کی معنویت ہم کو رسول اور اصحابِ رسول کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues