ذہنی تحفظ کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴
زندگی میں ملتی ہے۔ تاہم دوسرے مذاہب میں بھی اس کی مثالیں ہیں جو اس معاملے کی وضاحت میں مدد دیتی ہیں۔
مثال کے طور پر ہندو پیشوا سوامی وویکانند کا واقعہ ہے کہ اُن کے ایک مسیحی دوست نے اُن کا امتحان لینا چاہا۔ اُس نے سوامی جی کو اپنے گھر پر مدعو کیا۔ سوامی جی جب وہاں پہنچے تو اُن کے مسیحی دوست اُن کو ایک کمرے میں لے گیے۔ یہاں ایک میز پر مختلف مذاہب کی مقدس کتابیں نیچے اوپر کی ترتیب میں رکھی ہوئی تھیں ۔ سب سے نیچے ہندو مذہب کی مقدس کتاب گیتا تھی اور سب سے اوپر مسیحی مذہب کی مقدس کتاب بائبل۔
سوامی جی جب اُس کمرے میں پہنچے تو اُن کے مسیحی دوست نے کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سوامی جی ، اس کے بارے میں آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ سوامی وویکانند کے لیے بظاہر یہ ایک بے عزتی کا معاملہ تھا، کیوں کہ اُن کی مقدس کتاب سب سے نیچے تھی اور مسیحیت کی مقدس کتاب سب سے اوپر۔ سوامی جی نے اس منظر کو دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے کہا۔ بنیاد تو بہت اچھی ہے: The foundation is realy good. یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو اُس کا ذہن پوری طرح کام کرے گا۔ وہ زیادہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع کر سکے گا۔ یہاں تک کہ غصہ کے وقت غصہ نہ ہونا آدمی کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنے مائنس کو پلس میں تبدیل کر سکے، جیسا کہ مذکورہ واقعے میں سوامی وویکانند نے کیا۔ امریکا میں مولانا وحیدالدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں:
Mr. Laeeq Mohammad Khan 4007 Arborwood NJ 08021, USA Ph. 609 922 4785
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues