Al-Risala · July 2007 · page 25

اہل باطل کا طریقہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵

اہل باطل کا طریقہ

حق پرست انسان اور باطل پرست انسان کے درمیان جس طرح عقیدہ اور نظریہ میں فرق ہوتا ہے اسی طرح دونوں کی عملی روش میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ یہ فرق اُس وقت بہت زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے جب کہ اختلاف اور نزاع کی صورت پیدا ہو جائے۔ یہاں اس سلسلے میں اہل باطل کے بعض طریقوں کا ذکر کیا جاتا ہے جن کو قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔

مذاق اُڑانا

قرآن کی سورہ نمبر 45 میں اہل باطل کی ایک روش کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اُسے ہماری آیتوں میں سے کسی چیز علم ہوتا ہے تو وہ اُس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ (الجاثیہ: 9)

یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن تو سرتا پا حق ہے۔ پھر کسی شخص کو قرآن میں ایسی کوئی (شئ) کیسے مل جاتی ہے جس کا وہ مذاق اُڑائے اور استہزا کرے۔ جواب یہ ہے کہ اس قسم کی چیز اللہ سے بے خوف انسان کے ذہن میں ہوتی ہے نہ کہ خود کتاب اللہ میں۔ جو لوگ غیر سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ ڈر نہ ہو کہ اللہ کو ان کی ہر بات کا علم ہے اور وہ آخرت میں پکڑے جانے والے ہیں، وہ اپنی بے خوفی اور اپنی غیر سنجیدگی کی بنا پر ہر کتاب میں اس قسم کے شوشے تلاش کر لیتے ہیں، خواہ وہ قرآن جیسی سچی کتاب ہی کیوں نہ ہو۔ اس قسم کے بعض شوشے کی مثالیں تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہیں۔ (المدثر: 30) یہ آیت جب قرآن میں اُتری تو مکہ کے ایک پہلوان نے کہا کہ جہنم پر اگر صرف انیس فرشتے ہیں تو اُن کو زیر کرنے کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں ۔ (إن كانوا تسعة عشر فأنا القاهم وحدى) تفسير القرطبي 16/159 مکہ کے مذکورہ پہلوان نے قرآن کی اس آیت میں سے صرف عدد 19 (تسعة عشر) لے لیا اور اس کو نظر انداز کر دیا کہ یہ 19 اُس کے جیسے انسان نہیں ہیں بلکہ وہ غیر معمولی طاقت رکھنے والے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page