مذاق اُڑانا
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
فرشتے ہیں۔ مذکورہ پہلوان اگر پوری بات کو ذہن میں رکھتا تو وہ کانپ اٹھتا۔ وہ کہتا کہ خدا کا تو ایک ہی فرشتہ سارے انسانوں کو مغلوب کرنے کے لیے کافی ہے، پھر انیس فرشتوں کا مقابلہ کون کرسکتا ہے۔ مگر اُس نے جب مذکورہ بات کو خود ساختہ معنوں میں لیا تو اس کو شوشہ بنانے کا موقع مل گیا۔ عیب جوئی اور الزام تراشی قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے: اور کفر کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اُس میں خلل ڈالو، تا کہ تم غالب رہو (حم السجده: 26)۔ اس آیت میں 'والغوا فيه' کا لفظ ہے۔ اُس کی تشریح حضرت عبداللہ بن عباس نے اس طرح کی ہے کہ: عیّبوہ (تفسیر ابن کثیر، تفسیر القرطبی) یہ اُن لوگوں کی روش کا ذکر ہے جو قرآن کے منکر تھے اور قرآن اور صاحب قرآن کو زیر کرنا چاہتے تھے۔ اُنھوں نے محسوس کیا کہ وہ دلائل کے ذریعے قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ چنانچہ انھوں نے یہ طے کیا کہ قرآن اور صاحب قرآن کے خلاف وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کی مہم چلائیں۔ اپنے جس منفی مقصد کو وہ دلیل کے زور پر حاصل نہیں کرسکتے اُس کو وہ سب وشتم کے زور پر حاصل کریں اور اسی طرح عوام کو قرآنی تحریک سے دور کردیں۔
کسی بات یا کسی شخص کے بارے میں اظہار رائے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تنقید، دوسرا تعییب۔ تنقید کا مطلب ہے حقائق کی بنیاد پر زیر بحث امر کا تجزیہ کرنا۔ اس کے برعکس تعییب یہ ہے کہ آدمی زیر بحث مسئلہ پر دلائل پیش نہ کرے۔ وہ صرف اس میں عیب نکالے وہ اس پر الزام لگا کر اس کو مطعون کرے۔ تنقید کا طریقہ سراسر جائز طریقہ ہے، مگر تعییب کا طریقہ سراسر نا جائز طریقہ۔ جو لوگ کسی کی مخالفت میں یہ کریں کہ وہ دلیل کے طریقہ کو چھوڑ کر عیب جوئی اور کردار کشی کا طریقہ اختیار کریں، وہ اپنے مفروضہ حریف کو بدنام کرنے کی مہم چلائیں، ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ قرآن کے مطابق، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے یہاں اہل کفر کی روش اختیار کرنے والے قرار پائیں۔ متعصبانہ ضد قرآن کی سورہ نمبر 48 میں اُن مشرکین مکہ کا ذکر ہے جنھوں نے حدیبیہ کے موقع پر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues