Al-Risala · July 2007 · page 27

قتل پر انعام

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷

متعصبانہ ضد کا طریقہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے :

جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر، اور ایمان لانے والوں پر، اور اللہ نے اُن کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اُس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ (الفتح : 26) نزاع کے وقت اگر آدمی ایسا کرے کہ اُس کے سامنے حق پیش کیا جائے مگر متعصبانہ ضد کی بنا پر وہ اس حق کا اعتراف نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ’حمیتِ جاہلیہ‘ کی بیماری میں مبتلا ہے۔ وہ معاملات کو حق اور ناحق کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ وہ اُس کو اپنے اور غیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اُس کے ذہن پر تعصب کا رنگ چڑھا ہوا ہے۔

قتل پر انعام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ جب مشرکین کی طرف سے آپ کی مخالفت بہت بڑھ گئی، حتیٰ کہ وہ تشدد پر اتر آئے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدنیہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

مکہ سے آپ رات کے وقت ہجرت کے لیے نکلے۔ صبح کے وقت جب مکہ کے مشرکین کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو انھوں نے چاہا کہ وہ آپ کے تعاقب میں اپنے آدمیوں کو دوڑائیں۔ اور آپ کو مدینہ جانے سے روک دیں۔ چنانچہ قریش نے اعلان کیا کہ اُس شخص کو سو اونٹ انعام دیا جائے گا جو محمد کو پکڑ کر لائے (جعلت قريش فيه مأۃ ناقة لمن رده عليهم) سیرۃ ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 102 اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی شخص سے اختلاف پیش آنے کے بعد یہ کرنا کہ اُس کے سر پر انعام مقرر کرنا اور لوگوں کو اکسانا کہ وہ اُس کو قتل کر دیں تو وہ اتنا انعام پائیں گے۔ یہ اہل کفر اور اہل شرک کا طریقہ ہے، وہ اہل ایمان کا طریقہ نہیں۔ رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ انعام مقرر کرکے کسی کو قتل کرانے کی کوشش کریں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ بلاشبہ اللہ کے نزدیک سخت مجرم ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page