Al-Risala · July 2007 · page 28

ایک انتباہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

ایک انتباہ

موجودہ زمانے میں مختلف مقامات کے مسلمان جہاد کے نام پر مسلح سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہیں ۔ ان سرگرمیوں میں اگرچہ عملاً ایک محدود طبقہ ہی شریک ہے مگر دنیا کے تقریباً تمام مسلمان بالواسطہ انداز میں اس کے ساتھ شریک ہیں ۔ ان میں خود مسلم حکومتیں بھی شامل ہیں ۔ ان میں سے کوئی اس خود ساختہ جہاد کو اخلاقی سپورٹ دے رہا ہے، کوئی مالی سپورٹ، کوئی قولی سپورٹ اور کوئی ڈپلومیٹک سپورٹ ۔

کچھ لوگ وہ ہیں جو بظاہر اس قسم کی سپورٹ نہیں دیتے مگر وہ اس کے بارے میں خاموش رہ کر اس کی عملی تصدیق کر رہے ہیں ۔ اس لیے یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہے کہ اسلام کے نام پر اس غیر اسلامی جہاد میں تقریباً پوری ملت شریک ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اس میں براہِ راست طور پر شریک ہیں اور کچھ لوگ بالواسطہ طور پر شریک ۔ مگر شرعی اعتبار سے دونوں یکساں طور پر اس نا محمود فعل کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں ۔

اب اس معاملے کی دو ممکن صورتیں ہیں ۔ یا تو یہ جو کچھ آج کی دنیا میں ہو رہا ہے وہ واقعتاً اسلامی جہاد ہے، یا یہ کہ وہ اسلامی جہاد نہیں ہے اور غلط طور پر اس کو اسلامی جہاد کا نام دیا جا رہا ہے ۔ ان دونوں ہی صورتوں میں امت مسلمہ شدید طور پر گنہگار قرار پاتی ہے ۔ وہ اس بات کی مجرم بن رہی ہے کہ از روئے شریعت جو کچھ اسے کرنا چاہیے تھا وہ اس نے نہیں کیا ۔

اب اگر مسلمانوں کی یہ لڑائیاں واقعۂ جہاد کی حیثیت رکھتی ہوں تو مسئلہ یہ ہے کہ یہ جہاد عملاً شدید طور پر نا کام ہو رہا ہے ۔ جہاد کا ہر محاذ مسلمانوں کی یک طرفہ ہلاکت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایسی حالت میں بقیہ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ جہاد کے ان میدانوں میں کود پڑیں ۔ وہ تر بس کا طریقہ چھوڑ کر عملی شرکت کا طریقہ اختیار کریں ۔ موجودہ حالت میں اخلاقی یا مالی سپورٹ دینا ان کے لیے ہرگز کافی نہیں ۔ جہاد میں عملی شرکت سے کم درجہ کی کوئی چیز ان سے قبول نہیں کی جائے گی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page