ایک انتباہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹
اور اگر یہ لڑائیاں اسلامی جہاد کی حیثیت نہ رکھتی ہوں تب بھی بقیہ مسلمانوں پر ایک اور فریضہ لازمی طور پر عائد ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ صاف طور پر اس کی مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ یہ اسلامی جہاد نہیں ہے اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے بری ہیں۔ بقیہ مسلمان اگر اس قسم کا اعلان برأت نہ کریں تو یہ دوسرا گروہ بھی شریعت کی نظر میں اُسی طرح مجرم ہے جس طرح پہلا گروہ۔ جیسا کہ معلوم ہے، جہاد حکماً ہر شخص پر فرض نہیں ہے بلکہ وہ فرض علی الکفایہ ہے۔ یعنی جس مقصد کے لیے جہاد مطلوب ہے، اگر اُمت کے کچھ لوگ جہاد کر کے اس مقصد کو حاصل کر لیں تو بقیہ افراد جو اس میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ اللہ کے نزدیک بری الذمہ قرار پائیں گے۔ کیوں کہ فرض علی الکفایہ میں نشانہ کی تکمیل اصل مقصود ہوتا ہے نہ کہ ہر شخص کا فرداً فرداً اس میں شریک ہونا۔ اب اس شرعی اصول کو موجودہ صورت حال پر چسپاں کیجیے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی طرف سے جاری کردہ جہاد کو جہاد کہنا کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک سنگین ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ تمام جہاد عملاً تباہی پر منتج ہورہے ہیں۔ ہر جگہ مسلم مجاہدین سخت قسم کی تباہی اور ناکامی سے دوچار ہو رہے ہیں۔
ایسی حالت میں صرف یہ کافی نہیں کہ اُس کو جہاد بتایا جائے اور کچھ مالی یا اخلاقی سپورٹ دے دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو ان مسلح سرگرمیوں کو جہاد بتاتے ہیں، موجودہ حالت میں اُن پر فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے مال اور اولاد کے ساتھ اس جہادی عمل میں براہِ راست شریک ہو جائیں، خواہ اس کے نتیجہ میں وہ خود بھی ہلاک ہوں اور اُن کے مال اور اولاد بھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ سات چیزیں موبقات (مہلکات) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے ایک ’الفرار من الزّحف یا التّولّی من الزّحف‘ ہے (صحیح البخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، النسائی، الترمذی، احمد) یعنی میدانِ جنگ سے بھاگنا۔
واضح ہو کہ ’فرار من الزّحف‘ صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی جنگ کے میدان میں موجود ہو اور پھر وہاں سے بھاگ کھڑا ہو۔ یہ حالت بھی فرار من الزّحف کے حکم میں داخل ہے کہ معرکۂ جہاد کا کام ہو رہا ہو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues