Al-Risala · July 2007 · page 30

ایک انتباہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰

ہوا اور دوسرے لوگ باہر رہ کر صرف اُس کے تماشائی بنے رہیں۔ ایسی حالت میں اُن لوگوں کو عملاً جنگ میں شریک ہونا پڑے گا ورنہ وہ فرار من الزحف کا مصداق قرار پائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ اگر وہ ان معرکوں کو جہاد نہیں سمجھتے تو وہ کھلے طور پر اُس کی مذمت کریں۔ اور تباہی کے اس عمل کو بند کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اس خونی کھیل میں اُن کے لیے نہ چپ رہنا جائز ہے اور نہ غیر جانب دار بن جانا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ یہ بقیہ مسلمان اس خونی عمل کو اسلامی جہاد سمجھتے ہوں۔ ایسی حالت میں اُن کے عقیدہ کی بنا پر اُن کے اوپر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ان مجاہدین کے ساتھ عملاً شریک جنگ ہو جائیں۔ اس معاملے کو جہاد بتانا اور مجاہدین کی مسلسل تباہی کے باوجود اُس میں عملاً شریک نہ ہونا بلاشبہ سخت گناہ ہے اور وہ حدیث کے الفاظ میں ’موبقات‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ دو صورتوں کے علاوہ تیسری صورت جس کو مسلمانوں کے عوام اور خواص اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ سرے سے کوئی صورت ہی نہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودہ روش کے بارے میں سخت اندیشہ ہے کہ وہ قرآن کی اس آیت کا مصداق ٹھہریں: يحبّون أن یحمدوا بما لم يفعلوا، فلا تحسبنّهم بمفازة من العذاب (آل عمران: 188) یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا اُس پر اُن کی تعریف ہو۔ اُن کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔

بنگلور میں مولا نا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہ نامہ الرساله حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں :

Fathima Sarah Al-Falah Study Centre Peace and Spirituality forum, Counselling, Library and Bookstore # 17/2, Berlie Street, Langford Town, Bangalore-560 025 Ph. 65904690, M. 9880310382, Email: fathima-sarah@hotmail.com

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page