Al-Risala · July 2007 · page 31

گیارہ ستمبر کے بعد

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱

گیارہ ستمبر کے بعد

11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں غیر متوقع نوعیت کا ایک بھیانک واقعہ ہوا۔ ایک خود کش ٹیم نے امریکا کے چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کر لیا۔ اور اُن کو اُڑاتے ہوئے جا کر نیویارک اور واشنگٹن کے اسکائی اسکریپرس (بلند بالا عمارتوں) سے ٹکرا دیا۔ اس کے نتیجہ میں ہولناک تباہی برپا ہوئی۔ تقریباً سات ہزار آدمی اچانک ہلاک ہو گئے، وغیرہ۔

یہ گویا امریکا پر ایک فضائی حملہ تھا۔ اس کے بعد امریکا نے انتقامی کارروائی کے طور پر 8 اکتوبر 2001 کو افغانستان کے اوپر بم باری شروع کر دی۔ کیوں کہ امریکا کے نزدیک 11 ستمبر کے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ اُسامہ بن لادن ہے جس کو افغانی طالبان کی پوری حمایت حاصل ہے۔ اور جو افغانستان میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر امریکا کے خلاف پر تشدد کارروائیاں چلا رہا ہے۔ 8 اکتوبر 2001 کو امریکا نے افغانستان کے خلاف جو کارروائی کی وہ انٹرنیشنل نارم کے مطابق درست تھی۔ کیوں کہ وہ ڈیفنس کے طور پر کی گئی۔ اس کے باوجود ایسا ہوا کہ ساری دنیا میں امریکا کو برا کہا جانے لگا۔ امریکا کے خلاف لوگوں کی نفرت بہت زیادہ بڑھ گئی۔ اب ایک اور متوازی واقعہ لیجیے۔ منگول سردار چنگیز خاں (وفات: 1227ء) نے اسی افغانستان پر 1218ء میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا۔ اسی طرح چنگیز خاں کے سفیر کو خوارزم شاہ نے قتل کر دیا تھا۔ اس کا انتقام لینے کے لیے اُس نے سمرقند سے لے کر حلب تک ایک بہت بڑے علاقے کو تباہ کر ڈالا۔

مگر عجیب بات ہے کہ مذکورہ واقعہ پر ساری دنیا میں امریکا کے خلاف نفرت پھیل گئی، جب کہ اسی قسم کا واقعہ تقریباً 800 سال پہلے منگول حکمراں نے کیا تھا۔ مگر اُس کے خلاف عالمی نفرت نہ پہلے تھی اور نہ آج پائی جاتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ 800 سال پہلے کی دنیا میں جدید میڈیا کا کوئی وجود نہ تھا۔ اس لیے وہ واقعہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page