قتل یا ڈی کنڈیشننگ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷
قتل یا ڈی کنڈیشننگ
اپنے تجربے سے مجھے ایک نئی بات معلوم ہوئی جس کو میں نے اس سے پہلے نہ سنا تھا اور نہ پڑھا تھا۔ وہ یہ کہ انگریزی تعلیم یافتہ نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، بظاہر غیر مذہبی معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ حقیقت میں غیر مذہبی نہیں ہیں۔ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ غیر روایتی ہیں۔ اُن کے گھر اور ان کے ماحول نے اُن کے اندر اپنے آبائی مذہب کے لیے جو عقیدت پیدا کی تھی، اُس کو جدید انگریزی تعلیم نے ختم کر دیا، گویا کہ ان کی فطرت کے اوپر جو روایتی پردہ پڑ گیا تھا، وہ ہٹ گیا اور وہ اپنی اصل فطرت کے قریب آگئے۔ اس تجربے سے میں نے یہ سمجھا ہے کہ ماڈرن ایجوکیشن کے ادارے اپنی حقیقت کے اعتبار سے قتل گاہ نہیں ہیں، بلکہ وہ تطهیر ذہن کے ادارے ہیں۔ اس نتیجے کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ دراصل ڈی کنڈیشننگ کے ادارے (institutions of deconditioning) ہیں۔ ذہنی تطهیر کے اس عمل کی بنا پر ایسے لوگ اس قابل ہو گئے ہیں کہ وہ کسی بات کو زیادہ کھلے ذہن کے ساتھ سمجھ سکیں۔ ایک حدیث کے مطابق ، ہر پیدا ہونے والا اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اُس کو اس کے والدین اپنے اپنے مذہب میں ڈھال لیتے ہیں۔ (کُلّ مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواه يهوّدانه، أو ينصّرانه، أو يمجّسانه، البخاری) یہ ایک مذہبی کنڈیشننگ کا معاملہ ہے۔ یہ مذہبی کنڈیشننگ دعوتِ حق کے مشن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کنڈیشننگ کی ڈی کنڈیشننگ دعوت کی کامیابی کا پہلا مرحلہ ہے۔ موجودہ سیکولر تعلیم کا نظام، ڈی کنڈیشننگ کے اِسی عمل کو انجام دے رہا ہے۔ گویا کہ جن نوجوانوں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ جدید تعلیم کے بعد وہ مذہب سے پھر گئے ہیں، برعکس طور پر جدید تعلیم نے اُن کو حقیقی مذہب سے قریب کر دیا ہے۔ یہ ایک نیا امکان ہے جو جدید تعلیم نے پیدا کیا ہے۔ اس امکان کو استعمال کرنا، دعوتی منصوبہ بندی کا پہلا اصول ہے۔ قرآن میں فطرت کا یہ اصول بتایا گیا ہے کہ نا پسندیدہ صورتِ حال میں بھی ایک موقع موجود رہتا ہے۔ (البقرہ: 216) موجودہ تعلیمی نظام کا یہ پہلو اسی فطری قانون کی ایک مثال ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues