والدِ محترم کی وفات
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴
ان کی تکلیف بڑھتی جارہی تھی ، مگر شدید تکلیف کے باوجود وہ سراپا صبر وشکر بنے ہوئے تھے۔ دعا اور استغفار کے سوا اور کوئی لفظ میں نے ان کی زبان سے نہیں سنا۔ بیماری کے ذریعے خدا نے ان کو عجز کے شعوری مقام تک پہنچادیا تھا۔ اور شعوری سطح پر عجز کا تجربہ بلاشبہ سب سے بڑی چیز ہے۔ بار بار وہ آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر کہتے تھے کہ ــــ خدایا ، میں نے جان لیا کہ سب کچھ صرف تیرے اختیار میں ہے ، کچھ بھی اپنے بس میں نہیں۔ خدایا، میں اس سے زیادہ تکلیف کا مستحق ہوں ۔ تو ارحم الراحمین ہے۔ مجھ پر رحم فرما اور مجھ کو معاف کردے۔ مغرب کے بعد سے ان کی زبان پر مسلسل ذکر اور دعا کے الفاظ جاری تھے۔ یا ربّ لك الحمد كما ينبغى لجلال وجهك ولعظيم سلطانك ۔ جزى الله عنّا محمّدًا ما هو اهله صلى الله عليه وسلم۔ یہ ان کی پسندیدہ دعا تھی۔ یہ دعا بار بار ان کی زبان پر آرہی تھی۔
عشا کے بعد ان کے اندر بولنے کی طاقت بہت کم رہ گئی تھی۔ وہ صرف اشارے سے کوئی بات کہہ سکتے تھے ۔ ان کی آنکھیں مسلسل طور پر بند تھیں۔ میں ان کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اچانک وہ آنکھیں پھاڑ کر اوپر دیکھنے لگے۔ میں نے سورہ یاسین کی تلاوت شروع کردی۔ ابھی میں علیٰ صراطِ مستقیم تک پہنچا تھا کہ ان کی روح نکل گئی۔ اِنّا للہ و اِنّا اِلَيْہ راجعون۔
ان کی تعلیم اگرچہ کالج میں ہوئی تھی ، لیکن وہ مکمل طور پر دینی مزاج کے آدمی تھے۔ مادیت سے ان کو دل چسپی نہیں تھی۔ سادگی اور زہد ان کی فطرت کا حصہ تھا۔ وہ بہت صاف گو آدمی تھے۔ مزاجی طور پر ان کے اندر غصہ بہت تھا ، مگر وہ حق کے آگے جھکنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ اپنے چھوٹوں سے بھی معافی مانگنے میں وہ کبھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ خدا کی یاد اور شکر کی وہ ایک زندہ مثال تھے۔ ہر دن اُن پر ایسا لمحہ ضرور طاری ہوتا تھا جب کہ وہ سراپا شکر بن جاتے۔ خدا کی یاد ان کی زبان سے ابلنے لگتی ، آنکھیں نم ہوجاتیں اور پھر وہ ایک ایک نعمت کو سوچ سوچ کر اس پر خدا کا شکر ادا کرتے۔
ان کی زندگی کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو اپنی اولاد کے دینی مستقبل کی فکر تھی۔ یہ ان کا سب سے بڑا کنسرن تھا کہ ان کی اولاد صراطِ مستقیم پر قائم رہے اور اس کی زندگی آخرت رخی زندگی ہو۔ اسی کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے تھے اور رات دن اسی فکر میں جیتے تھے۔ نماز کے معاملے میں وہ ہم لوگوں کے ساتھ بالکل رعایت نہیں کرتے تھے۔ خدا کی نعمتوں کو یاد دلا کر وہ کہتے کہ ہم پر خدا کے بے پناہ احسانات ہیں۔ کیا احسان شناسی کا تقاضایہ نہیں ہے کہ ہم خدا کے سامنے جھک کر اس کا شکر اور اس کا اعتراف کریں۔ ان کا طریقہ لاڈ پیار کا طریقہ نہیں تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues