Al-Risala · July 2007 · page 45

والدِ محترم کی وفات

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵

انھوں نے ہمیشہ ہم لوگوں کو ڈانٹ کر رکھا۔ وہ ہم لوگوں کو ہمیشہ اس کی تعلیم دیتے تھے کہ مادیت کے فتنے سے بچنا اور ہر لمحہ آخرت کو اپنے سامنے رکھنا۔ انھوں نے ہم لوگوں کے لیے کبھی پراپرٹی بنانے اور بینک بیلنس کرنے کی فکر نہیں کی۔ وہ کہتے تھے کہ میرا کام صرف تعلیم و تربیت ہے۔ آگے تم لوگ خود محنت کرو اور خدا کے اوپر بھروسہ رکھو۔ وہ دعوتی مزاج کے آدمی تھے۔ وہ بہت تاکید کے ساتھ بار بار مجھ سے کہتے تھے کہ میں دینی تعلیم صرف اس لیے دلا رہا ہوں تاکہ خدا تم سے دین کا کام لے اور تم کو انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ ان کی زبان پر ہمیشہ یہ دعا جاری رہتی تھی کہ ــــ خدایا، قیامت تک آنے والی نسلوں سے تو دین کا کام لے لے۔ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ، وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان: 74) یہ ان کی روزانہ کی محبوب دعا تھی۔ یہ انھیں کی دعا اور تربیت کا نتیجہ تھا کہ میں الرسالہ کے دعوتی مشن سے وابستہ ہوسکا۔ وہ کہتے تھے کہ اب خدا نے تم کو اس کام میں لگا دیا ہے جس کے لیے میں نے تم کو پڑھایا تھا۔ وہ ایک ذہین اور وسیع الفکر آدمی تھے۔ انھوں نے پہلی بار جب مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ایک مختصر تحریر پڑھی تو مجھ سے کہا کہ ــــ مولانا کا کیس، معروف معنوں میں، ہرگز کسی انحراف کا کیس نہیں ہے۔ ان کا کیس حسد کا کیس ہے۔ جو شخص اتنے اعلیٰ درجے کی ربانی تحریر لکھے، لوگ ضرور اس سے حسد کریں گے۔ لوگ کسی ایسی چیز کا اعتراف نہیں کر پاتے جس کا اعتراف اپنی نفی کے ہم معنی ہو، اس لیے وہ اپنی بے اعترافی کو چھپانے کے لیے داعی حق کی جھوٹی مخالفت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انبیاء کی پوری تاریخ اس تلخ حقیقت کا زندہ ثبوت ہے۔

ان کا معمول تھا کہ وہ فجر کے بعد ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ انھوں نے تفسیر قرآن کے کئی دور پورے کر لیے تھے۔ ادھر کئی برس سے وہ اہتمام کے ساتھ 'تذکیر القرآن' کا مطالعہ کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے مجھ سے کہا کہ 'تذکیر القرآن' پڑھنے کے بعد مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اپنی ساری عمر ضائع کر دی ہو اور اب مجھ کو خدا کی معرفت کا راستہ ملا ہے۔ گویا میں پہلی بار معرفت خداوندی کا تجربہ کر رہا ہوں۔ میرے لیے اطمینان کی سب سے بڑی بات یہی ہے کہ وہ اس دنیا سے ایمان کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ اس دنیا کی رفاقت اور جدائی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اصل رفاقت صرف آخرت کی رفاقت ہے۔ ان کی وفات نے موت کو میرے لیے ایک زندہ حقیقت بنا دیا ہے۔ یہی اس حادثے کا سب سے بڑا سبق ہے۔ خدا کی رحمت سے امید ہے کہ وہ ان کو اپنے مومن بندوں میں شامل کرے گا۔ اور ان کو جنت کے ابدی باغوں میں جگہ عطا فرمائے گا۔ (25 اپریل 2007)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2007 All issues

Printed page