Al-Risala · August 2007 · page 8

قیامت قریب آگئی

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۸

قیامت قریب آگئی

وسیع کائنات میں زمین ایک استثنائی گرہ ہے۔ وہ استثنائی طور پر سر سبز و شاداب ہے۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہے کہ انسان اُس پر آباد ہو اور یہاں ترقی یافتہ تہذیب بنائے ۔ مگر قرآن کے مطابق ، یہ ابدی صورتِ حال نہیں۔ ایک وقت آئے گا جب کہ زمین کی شادابی باقی نہ رہے گی ۔ وہ ایک بے آب و گیاہ کرہ بن کر رہ جائے گی۔ یہ واقعہ قیامت سے پہلے ہوگا۔

قرآن کی سورہ نمبر 18 کی ایک آیت یہ ہے : إِنَّا جعلنا ما علی الأرض زینۃ لھا لنبلوھم أیُّھم أحسن عملاً۔ وإنا لَجاعلون ما علیہا صعیداً جُرُزاً (الکھف: 7-8) یعنی رُوئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اُس کو زمین کے لیے زینت بنانا ہے تا کہ ہم لوگوں کو جانچیں کہ اُن میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے۔ اور ہم بالآخر اُس پر جو کچھ ہے سب کو بنجر میدان بنا دیں گے ۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں جب قرآن میں یہ آیت اتری، اُس وقت یہ بات ایک بعید پیشین گوئی تھی ، مگر اب زمین کے سائنسی مشاہدات بتا رہے ہیں کہ زمین کا یہ مقرر انجام شروع ہو چکا ہے۔ حال میں سیٹلائٹ کے ذریعے سطح زمین کے جو مشاہدات کیے گئے ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے کُرۂ ارض پر پانی کے نظام میں سخت اختلال پیدا ہو گیا ہے۔ اور زمین تیزی سے عین اُسی انجام کی طرف جارہی ہے جس کی پیشین گوئی قرآن میں ’صعیداً جُرُزاً‘ کے الفاظ میں کی گئی تھی۔ حال میں ساری دنیا کے سائنس دانوں نے اس موضوع پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا شروع کیا ہے۔ اُن کے مشاہدات اور ریسرچ کے نتائج برابر میڈیا میں آ رہے ہیں۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ’ٹائمس آف انڈیا‘ (18 مئی 2007) میں ایک رپورٹ اِس عنوان کے تحت چھپی ہے ــــ 2050 تک زمین بے آب و گیاہ اور ویران ہو جائے گی :

By 2050, Earth will be arid and empty.

اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ مشہور سائنس داں جیمس لولاک (James Lovelock) نے جدید

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page