اظہار دین
الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴
اظہار دین
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن اتر رہا تھا ، اس وقت یہ اعلان کیا گیا کہ ـــ وہ اللہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کردے ( هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله )
یہ آیت قرآن کی تین سورتوں (التوبہ، الفتح، الصف ) میں آئی ہے۔ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے اس سے مراد فکری غلبہ ہے۔ اس کا ابتدائی مظاہرہ عرب میں ہوا جب کہ پورے عرب میں شرک مغلوب ہو گیا اور توحید کو تمام ملک میں فکری غلبہ کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اسی کے ساتھ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر جو انقلاب لائے اس کے ذریعہ سے تاریخ میں ایک نیا عمل جاری ہوا جو تمام علمی اور نظریاتی اسباب کو اسلام کے حق میں کر دینے والا تھا۔ یہ عمل تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں وہ پوری طرح مکمل ہو گیا۔ اب اسلام کو امکانی طور پر تمام ادیان کے اوپر فکری غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔ تاہم یہ فکری غلبہ امکان کی صورت میں ہے۔ اب اہل اسلام کا یہ کام ہے کہ وہ اٹھیں اور اس امکان کو استعمال کر کے اسلام کو عملی طور پر تمام ادیان کے اوپر غالب اور سر بلند کر دیں۔ اظہار دین کی آیت میں جو بات کہی گئی ہے اس سے مراد دراصل یہ ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے ذریعہ تاریخ میں ایسا انقلاب لایا جائے گا جس کے بعد دلائل کا وزن تمام تر مذہب توحید کے حق میں جمع ہو جائے۔ شرک کی قسم کا کوئی بھی نظریہ دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہے۔ یہ تمام نتیجہ اس انقلاب کے ذریعہ حاصل کیا گیا ہے جس کو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ امکان اپنی آخری صورت میں پیدا ہو چکا ہے۔ آج تمام علمی دلائل اسلام کی صداقت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان جدید امکانات کو سمجھا جائے اور ان کو پر امن طور پر اسلامی دعوت کے حق میں استعمال کیا جائے۔ موجودہ زمانے میں اسلامی دعوت کا کام گویا کہ ایک نظری امکان کو عملی واقعہ بنانے کا کام ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues