Al-Risala · August 2007 · page 15

صوفی ازم

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵

صوفی ازم

بی بی سی لندن کی طرف سے ایک خط مورخہ 31 دسمبر 2003 مجھے ملا۔ اس خط میں مجھ سے فرمائش کی گئی تھی کہ اُن کے ویب سائٹ کے لیے میں ایک ہزار الفاظ کا ایک آرٹیکل تیار کر کے اُنھیں دوں۔ اس آرٹیکل کا تعلق، صوفی ازم سے تھا۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا صوفی ازم مشرق اور مغرب کے درمیان دوری کو ختم کر سکتا ہے:

If Sufism has the possibility to bridge the widening gulf between the Islamic world and the West. یہ آرٹیکل اُنھیں انگریزی زبان میں ایک ہزار الفاظ میں مطلوب تھا۔ اس آرٹیکل کو وہ مختلف زبانوں میں اپنی ویب سائٹ پر شائع کرنا چاہتے تھے۔ آرٹیکل کا عنوان انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں تجویز کیا تھا:

Relevance of Sufism in the post 9/11 world.

یہ دعوت نامہ ملنے کے بعد میں نے از سر نو صوفی ازم کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں میں نے صوفیوں اور غیر صوفیوں کی بہت سی کتابوں سے استفادہ کیا، اُردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی۔ اس مطالعے کے بعد، بہت سی حقیقتیں میرے سامنے آئیں۔

صوفی یا تصوف کی اصطلاحیں قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس کے بجائے قرآن میں الربّانیۃ (آل عمران : 79) کا لفظ آیا ہے۔ قرآن میں الربّانیۃ تقریباً اُسی مفہوم کے لیے استعمال ہوا ہے جس کے لیے بعد کے زمانے میں تصوف کے الفاظ استعمال ہوئے۔ الربّانیۃ یا الربّانیون کا لفظی مطلب ہے، رب والا۔ یعنی وہ شخص جس کی سوچ اور جس کا عمل، سب کچھ رب کی طرف متوجہ ہو جائے ۔ جس کی زندگی مکمل طور پر رب کے رنگ میں ڈھل جائے ۔ وہ بظاہر دنیا میں رہے مگر وہ نفسیاتی اعتبار سے دنیا سے قطع تعلق کر کے آخرت سے جُڑ جائے۔ لکھنؤ اور سہارن پور میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں :

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page