Al-Risala · August 2007 · page 30

سائنٹفک مذہب کی ضرورت

الرسالہ، اگست ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰

سائنٹفک مذہب کی ضرورت

فرانس ہر برٹ بریڈلے (وفات: 1924) مشہور برٹش فلسفی ہے۔ اس نے اپنی کتاب (Appearance and Reality) میں لکھا ہے کہ آج انسان کو ایک سائنٹفک مذہب (Scientific religion) کی ضرورت ہے، قدیم روایتی طرز کا مذہب آج کے انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ بریڈلے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ آج کے انسان کو ایسا مذہب چاہیے جس کا پیغمبر نیوٹن ہو اور جس کی مقدس کتاب پرنسپیا (Principia) ہو، یا یہ کہ اُس کا پیغمبر آئن سٹائن ہو اور اس کا الہیاتی نظریہ (General theory of relativity) ہو، بلکہ بریڈلے کا مطلب یہ تھا کہ آج کے زمانے میں وہی مذہب انسان کے لیے قابلِ قبول ہوسکتا ہے جو سائنٹفک جانچ میں پورا اترے۔ اصل یہ ہے کہ جدید سائنس کے ظہور کے بعد تمام افکار و عقائد کی دوبارہ سائنسی جانچ کی گئی ۔ اس جانچ میں بہت سے نظریات غیر واقعی ثابت ہو کر متروک ہو گئے۔ مثلاً اسی جانچ کے نتیجے میں سولر سسٹم کے بارے میں زمین مرکزی (geocentric) نظریہ ختم ہو گیا اور آفتاب مرکزی (heleocentric) نظریے کو مان لیا گیا۔ اسی طرح قدیم الکیمی ختم ہو گئی اور جدید کیمسٹری نے اُس کی جگہ لے لی۔ اسی طرح قدیم ایسٹرالوجی کا خاتمہ ہو گیا اور جدید ایسٹرانومی کو قبولیت حاصل ہو گئی، وغیرہ۔ بریڈلے کا مقصد یہ تھا کہ مذہب کے اوپر بھی یہی عمل کیا جانا ضروری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک مثبت تجویز ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اس تجویز پر بھر پور عمل کیا ہے۔ میں نے سائنٹفک میتھڈ کو مذاہب کے اوپر اپلائی کیا ہے۔ مجھے اپنے مطالعے سے یہ معلوم ہوا کہ پچھلے تمام مذاہب تبدیلیوں کی بنا پر اپنی اصل حیثیت کو باقی نہ رکھ سکے۔ اس بنا پر وہ سائنسی تحقیق کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ مگر اسلام کا معاملہ استثنائی طور پر مختلف ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اسلام کا مطالعہ بالکل غیر جانب دارانہ انداز میں اور خالص سائنسی طریق کار کے مطابق کیا ہے۔ میں ذاتی تحقیق کے مطابق، پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام ہی وہ سائنٹفک مذہب ہے جس کا خواب

‹ Previous page Next page › Contents of August 2007 All issues

Printed page