رمضان: تقویٰ اور شکر کا مہینہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴
لیے مفطر ہوا ممنوعات کے لیے وہ صائم بنا رہے۔
رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس لیے دیا تا کہ تم اللہ کی بڑائی کرو اور اس پر کہ اُس نے تم کو راہ بتائی اور تا کہ تم اُس کے شکر گزار بنو (ولتكبّروا اللہ علی ما هداکم و لعلکم تشکرون، البقرۃ: 185)
رمضان کے مہینے کا روزہ دو پہلوؤں سے شکر کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ ایک، اس بات کا شکر کہ اللہ نے قرآن کی صورت میں ایک کامل ہدایت نامہ انسان کو عطا کیا۔ دوسرے، اس بات کا شکر کہ اللہ نے دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو وہ تمام سامان حیات دئے جن کی ضرورت انسان کو تھی۔ انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ ذاتی طور پر اس کے لیے سچائی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا بورڈ بھی لگا ہوا نہیں ہے جس میں زندگی کا مقصد اور اس کی فلاح کا طریقہ بتایا گیا ہو۔ ایسی حالت میں ایک حقیقی انسان جب قرآن کو پاتا ہے تو اس کا دل احساسِ نعمت سے سرشار ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اس احسان پر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔
مزید یہ کہ قرآن واحد خدائی کتاب ہے جو محفوظ حالت میں آج تک موجود ہے۔ ایک آدمی جب سچائی کی تلاش کرتا ہے اور مختلف مذاہب کی کتابوں کو پڑھتا ہے تو اس پر کھلتا ہے کہ یہ تمام کتابیں بعد کے زمانے میں تحریف کا شکار ہوگئیں۔ اس طرح ان تمام کتابوں نے اپنی تاریخی اعتبار یت یک سر کھودی ہے۔
اس عمومی تجربے کے بعد آدمی جب قرآن کو دیکھتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب مکمل طور پر اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ تاریخی حیثیت سے وہ پوری طرح ایک قابلِ اعتبار کتاب ہے۔ قرآن کی یہ خصوصیت آدمی کو مزید احسان مندی میں مبتلا کرتی ہے۔ وہ ہمہ تن اللہ کے شکر و سپاس کے جذبے میں غرق ہو جاتا ہے۔
رمضان کا روزہ اسی اظہارِ شکر کی ایک خصوصی صورت ہے۔ روزہ رکھ کر قرآن کو پڑھنا، اس
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues