Al-Risala · September 2007 · page 5

رمضان: تقویٰ اور شکر کا مہینہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۵

بات کی علامت ہے کہ بندہ وفورِ شکر میں اپنا کھانا اور پینا تک بھول گیا ہے، وہ اپنی ضروریاتِ زندگی تک سے بے پروا ہو کر خدا کے کلام کو اپنے سینے سے لگا لینا چاہتا ہے۔

شکر کا دوسرا پہلو سامانِ حیات سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار چیزیں عطا کی ہیں جن کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا—اُنھیں میں سے ایک ضروری چیز کھانا اور پانی ہے۔ انسان کا مزاج یہ ہے کہ عام حالات میں اُس کو کسی چیز کی قدر و قیمت کا احساس نہیں ہوتا۔ چیزوں کی قدر و قیمت کو وہ صرف اُس وقت جانتا ہے جب کہ وہ ان چیزوں سے محروم ہو گیا ہو۔ آدمی کو اگر کھانا اور پانی برابر وقت پر ملتا رہے تو وہ حقیقی طور پر محسوس نہیں کر پا تا کہ کھانا اور پانی کیسی عجیب نعمتیں ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے بآسانی اِس زمین پر وافر مقدار میں فراہم کر دیا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر اِسی احساسِ نعمت کو پیدا کرنے کی ایک خصوصی تدبیر ہے۔ عام حالات میں صرف کسی انتہائی غریب آدمی ہی کو کھانے اور پانی کی قدر معلوم ہو سکتی ہے، مگر روزہ اِس کو ممکن بنا دیتا ہے کہ ہر آدمی اِس نعمت کی قدر و قیمت کو محسوس کرے، ہر آدمی کے سینے میں اس جذبے کی پرورش ہو کہ وہ حقیقی معنوں میں اپنے رازق کا شکر ادا کرنے والا بن جائے ۔

روزے کے زمانے میں آدمی دن بھر بھوک میں مبتلا رہنے کے بعد شام کو جب کھانے کے بعد اپنی بھوک کو مٹاتا ہے، جب وہ دن بھر پیاس کا تجربہ کرنے کے بعد شام کو پانی پی کر اپنی رگوں کو تر کرتا ہے تو اْس کی زبان پر شکرِ خداوندی کا وہ کلمہ جاری ہو جاتا ہے جو حدیث میں اس طرح آیا ہے: ذھبَ الظّمَاء وابتلّت العروق وثبت الأجر إن شاء الله تعالى۔

شکر بہت بڑا عمل ہے۔ شکر خلاصۂ عبادت ہے۔ روزہ اِسی عظیم عمل اور اِسی اعلیٰ عبادت کے لیے آدمی کو تیار کرتا ہے۔ روزے داری دراصل اِسی شکر گزاری کی تربیت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page