Al-Risala · September 2007 · page 6

روزے کا پیغام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۶

روزے کا پیغام

قرآن کی سورہ نمبر دو میں روزے کا حکم دیتے ہوئے حسب ذیل باتیں کہی گئی ہیں: روزہ اس لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہو۔ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اترا۔ تم اس پورے مہینے کا روزہ رکھو اور اس نعمت ہدایت پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔ اور جان لو کہ خدا اپنے بندوں سے بے حد قریب ہے۔ وہ پکارنے والے کی پکار سنتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے، لہٰذا تم کو چاہیے کہ تم اُس کا حکم مانو اور اُس پر ایمان لاؤ، تاکہ تم کو ہدایت ملے (البقرۃ: 186-183)

روزہ بظاہر یہ ہے کہ آدمی رات کو کھائے پئے اور دن میں وہ کھانا پانی چھوڑ دے، مگر یہ روزے کی ظاہری صورت ہے۔ روزے کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی کے اندر تقویٰ پیدا ہو، وہ اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچ کر زندگی گزارنے لگے۔ گویا رمضان کے دنوں میں روزے کی مخصوص شکل ایک علامتی تربیت ہے کہ بقیہ مہینوں میں اور ساری عمر میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے۔ خدا کی شریعت میں ہر آدمی کے لیے کچھ چیزیں جائز ہیں اور کچھ چیزیں ناجائز۔ رات کے اوقات آدمی کے لیے جائز چیزوں کی علامت ہیں اور دن کے اوقات ناجائز چیزوں کی علامت۔ اس علامتی ترک کے لیے کھانے پینے کو منتخب کرنا یہ بتاتا ہے کہ ممنوعات کی فہرست اس سے بھی زیادہ ہے جو قانونی الفاظ میں بتائی گئی ہے۔ ممنوعات کی اس دوسری قسم کا نام قربانی ہے۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ خدا کی خاطر رکنے اور چھوڑنے کی فہرست اگر کھانے پینے جیسی ضروری چیزوں تک پہنچ جائے تو اس سے بھی آدمی دریغ نہ کرے۔

آدمی جب دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے اور شام کو کھانے اور پانی سے سیراب ہوتا ہے تو وہ ایک بہت بڑی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے، وہ یہ کہ اس کا وجود جس غذا کا اتنی شدت سے محتاج تھا وہ انتہائی کامل صورت میں اس کے باہر خدا نے مہیا کر رکھی تھی۔ خوراک ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ انسان کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page