Al-Risala · September 2007 · page 7

روزے کا پیغام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۷

طلب کا کتنا مکمل جواب خدا نے اس دنیا میں تیار کر رکھا ہے۔

یہی احساس آدمی کے اندر قرآن کے بارے میں پیدا ہونا چاہیے۔ جس طرح غذا آدمی کی مادی طلب کا جواب ہے، اسی طرح قرآن آدمی کی روحانی طلب کا جواب ہے۔ خدا کی شکر گزاری اور اس کی بڑائی کا اعتراف یہ ہے کہ آدمی قرآن کو اُس حیثیت سے پالے جس حیثیت سے خدا نے اس کو اپنے بندوں کے پاس بھیجا ہے۔ وہ اسی طرح آدمی کی ضرورت بن جائے جس طرح کھانا آدمی کی ضرورت ہے۔ وہ اس کو پا کر اسی طرح سیراب ہو جائے جس طرح ایک بھوکا آدمی کھانا کھا کر اور پانی پی کر آخری حد تک سیراب ہو جاتا ہے۔

روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے سوال کیا کہ اے خدا کے رسول، ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کریں، یا وہ ہم سے دور ہے کہ ہم اس کو پکاریں (یا رسول الله، أقريبُ رَبُّنَا فنناجيه أم بعيد فنناديه، أخرجه إبن أبى حاتم) اس کے جواب میں مذکورہ آیتیں اتریں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ، بلکہ تمام عبادتوں کا اصل مطلوب کیا ہے۔ اصل مطلوب اسی مقام ہدایت (رشد) تک پہنچنا ہے، جب کہ بندہ اپنے رب کے اتنا قریب ہو جائے کہ وہ خدا سے ہم کلام ہونے لگے، وہ اپنے رب سے سوال کرے اور اس سے اس کا جواب پائے۔ یہی قربتِ خداوندی تمام دینی اعمال کا اصل مقصود ہے۔ جس کا دین اس کو خدا سے اس معنی میں قریب کر دے، وہی دین دار ہے۔ اور جس کا دین اس کو خدا سے اس طرح قریب نہ کرے، وہ بے دین ہے، خواہ ظاہری طور پر وہ دین داری کا لباس اوڑھے ہوئے۔

دن بھر کے روزے کے بعد شام کو افطار کا وقت آتا ہے۔ اسی طرح پورے مہینے کا روزہ رکھنے کے بعد عید الفطر آتی ہے۔ یہ معاملہ دنیا اور آخرت کی تعبیر ہے۔ ’’روزہ‘‘ دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور ’’إفطار‘‘ آخرت کی زندگی کی علامت۔ بھوک پیاس اور تعب کی ایک مدت گزارنے کے بعد آدمی کو افطار کی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں جو عورت اور مرد احتیاط اور ذمے داری کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page