عظیم ترین گواہی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۹
عظیم ترین گواہی
حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم میں ایک تفصیلی روایت آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں امتِ محمدی کا ایک فرد اٹھے گا جو اس زمانے کے فتنة کبریٰ کو ختم کرے گا۔ یہ خاتمہ حجت اور دلائل کے ذریعہ ہوگا۔ یہ واقعہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا بڑا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا: ہٰذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين (کتاب الفتن) یعنی یہ اللہ رب العالمین کے نزدیک ، تاریخ کی سب سے بڑی گواہی ہوگی۔
حالات بتاتے ہیں کہ وہ وقت پوری طرح آچکا ہے، جب کہ کچھ لوگ اٹھیں اور اس رول کو انجام دیں۔ اس معاملے میں اب مزید تاخیر کا وقت باقی نہیں رہا۔ یہ حدیث اور اس طرح کے دوسرے نصوص، دراصل ایک امکان کو بتا رہے ہیں، نہ کہ کسی فرد یا افراد کے کارنامے کو۔ یہ قیامت سے پہلے کا ایک رول ہے جس کی طرف دوڑنے والوں کو دوڑنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں ” آنے والے “ کا انتظار اور خود اپنے کو ” آنے والا “ بتانا، دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں: Waiting for a “coming person” or claiming “I am that person”, both are equally wrong. عظیم شہادت کا تعلق، عظیم امکانات سے ہے، نہ کہ صرف ایک فرد کے کارنامے سے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دورِ آخر میں ایسے عظیم مواقع ظہور میں آئیں گے جن کو استعمال کر کے عظیم دعوتی واقعہ انجام دینا ممکن ہو جائے گا۔
مشہور برٹش سائنس داں سر آئزک نیوٹن کا ایک خط (1704ء) حال میں یروشلم کے ایک میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا۔ اس خط میں نیوٹن نے لکھا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی۔ اس واقعہ کی رپورٹ دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمْس آف انڈیا (18 جون 2007) میں اُس کے صفحہ اول پر چھپی ہے۔ اس خبر کا عنوان یہ ہے:
Newton saw end of world in 2060
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues