Al-Risala · September 2007 · page 10

Newton saw end of world in 2060

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰

سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727ء) نے اپنی یہ تحریر کلاسکل لاز آف گریوٹی اینڈ موشن (Classical Laws of Gravity and Motion) کی روشنی میں میتھ میٹکل کیلکولیشن کے ذریعہ ظاہر کی تھی۔ یہ اندازہ اتنا عجیب تھا کہ لوگوں نے اس کو نیوٹن کی زندگی کا توہماتی پہلو (superstitious side) قرار دیا۔ یہ خط پہلی بار 1969 میں منظر عام پر آیا تھا۔ اب اس کو یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی میں ایک مخصوص نمائش (Newton's Secrets) میں رکھا گیا ہے۔

موجودہ دنیا کے خاتمے کے بارے میں نیوٹن نے جو بات حسابی اندازے کے تحت کہی تھی، وہ اب مشاہداتی سائنس کے تحت ایک معلوم واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جو کلائمیٹ چینج کا واقعہ پیش آ رہا ہے، اُس کی روشنی میں مغربی سائنس داں یہ کہہ رہے ہیں کہ 2010 تک موجودہ دنیا کا لائف سپورٹ سسٹم بہت زیادہ بگڑ جائے گا، اور 2050 تک شاید زمین پر ہر قسم کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔

قرآن اور حدیث میں واضح طور پر اس واقعے کی پیشین گوئی موجود ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا نے یہ دنیا محدود مدت کے لیے بنائی تھی، اور اب وہ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ محدود مدت اپنے آخری خاتمے کے قریب ہے۔ قرآن اور حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے یہاں ایک آخری دعوتی اعلان کیا جائے گا، تا کہ انسانی نسلیں آخری طور پر جان لیں کہ اب وہ وقت آچکا ہے جب کہ اُنھیں خالقِ کائنات کے سامنے آخری پیشی کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ اوراُس کے بعد ہر ایک کے لیے یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔

قیامت سے پہلے یہ آخری اعلان معجزاتی طور پر نہیں ہوگا، بلکہ اسباب وعلل کے ذریعے ہوگا۔ حالات بتاتے ہیں کہ وہ اسباب اب پوری طرح موجود ہو چکے ہیں۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ اٹھنے والے اٹھیں اور پیدا شدہ مواقع کو استعمال کر کے آخری طور پر خدا کے دین کا اعلان عام کر دیں۔ غالباً اسرافیل اپنا صور لیے ہوئے اِسی آخری اعلانِ حق کا انتظار کر رہے ہیں۔ حدیث میں جس چیز کو عظیم ترین شہادت یا عظیم ترین دعوت کہا گیا ہے، اُس کے امکانات کامل طور پرظہور میں آ چکے ہیں۔ اب ضرورت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page