کشمیر: ایک جائزہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۵
پیدا ہوئے۔ اور 1439 ء میں چرار کی مقام پر ان کی وفات ہوئی۔ پندرہویں صدی عیسوی کے آغاز میں کشمیر کے حاکم زین العابدین نے شیخ نورانی کی قبر کی جگہ پر ایک بڑا مقبرہ تعمیر کیا۔ اس کے بعد انیسویں صدی عیسوی میں پٹھانوں کے حکومت کے زمانے میں اس درگاہ کی مزید توسیع ہوئی اور اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی۔
چرار شریف کی اس درگاہ میں شیخ نور الدین نورانی کی قبر کے ساتھ گیارہ اور صوفیوں کی قبریں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی مقدس تاریخی یادگاریں وہاں رکھی ہوئی تھیں ۔ مثلاً حضرت فاطمہ کے تبرکات، وغیرہ جو آگ کی نذر ہو گیے۔
افغانی گورنر عطا محمد خاں شیخ نورانی سے بہت متاثر تھا۔ اس نے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر انیسویں صدی کے آغاز (1810-1808) میں شیخ نور الدین نورانی کے نام کا سکہ جاری کیا۔ اس افغانی گورنر نے درگاہ کی مزید توسیع کر کے اس میں مسجد کا اضافہ کیا۔ کشمیر کے مشہور بزرگ سید امیر کبیر علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) اور ان کے ساتھیوں کی کوشش سے کشمیر میں ایک روحانی بیداری آگئی تھی۔ اس زمانے میں مقامی صوفیوں اور بزرگوں کا ایک پورا گروہ پیدا ہو گیا۔ ان لوگوں کو عام طور پر بابا یارشی کہا جاتا تھا۔ یہ مسلمان رشی نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ وہ ہندو اور مسلمان دونوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان مسلمان رشیوں میں سب سے زیادہ شہرت شیخ نور الدین نورانی نے پائی۔ ہندوؤں میں بھی وہ اتنا ہی مقبول محبوب تھے جتنا کہ مسلمانوں میں (آب کوثر، از شیخ محمد اکرام، صفحہ 381) شیخ نور الدین نورانی کی ابتدائی زندگی مصیبتوں میں گزری۔ وہ دنیا والوں کی حالت دیکھ کر غمگین رہتے تھے، آخر کار انھوں نے بستی کو چھوڑ دیا۔ اور وہ پہاڑ میں جاکر تنہا ایک غار میں رہنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ 12 سال تک اسی غار میں مراقبہ کرتے رہے۔ یہ غار اب تک وہاں موجود ہے۔ اور دس فٹ گہرا ہے۔ آخر عمر میں ان کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ صرف ایک پیالہ دودھ پر گزارہ کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں وہ بہت کمزور اور لاغر ہو گیے۔ اور صرف 63 سال کی عمر میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues