کشمیر: ایک جائزہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
انتقال کر گئے ۔ یہ سلطان زین العابدین کا زمانہ تھا۔
ایک کتاب ہے جس کا نام ’نورنامہ‘ ہے۔ اس کتاب میں شیخ نور الدین نورانی کے صوفیانہ اقوال جمع کیے گئے تھے۔ اس کتاب کو بابا نصیب الدین غازی نے فارسی زبان میں مرتب کیا تھا۔ یہ کتاب شیخ نورانی کے انتقال کے دوسوسال بعد تیار کی گئی۔
چرار شریف میں شیخ نور الدین نورانی کی درگاہ کا طرزِ تعمیر بالکل بدھوں کے پگوڈا جیسا تھا۔ یہ عمارتی اسٹائل گویا اس بات کی علامت تھا کہ شیخ نور الدین نورانی کٹر پن سے بہت دور تھے۔ وہ صلح کُل (peace with all) کی پالیسی کو پسند کرتے تھے۔
شہنشاہ جہاں گیران کا معتقد تھا۔ اس نے شیخ نور الدین نورانی اور ان کے پیروؤں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ رشی نہ کسی کو بُرا کہتے ہیں اور نہ کسی سے کوئی چیز مانگتے ہیں۔ یہ دولفظ میں شیخ نور الدین نورانی اور ان کے ماننے والوں کی صحیح اور جامع تصویر ہے۔ شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیریّت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ، یہی خدا سے ملنے کا راستہ ہے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ چناں چہ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے ’رُشی نامہ‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نور الدین نورانی کے نزدیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی، وہ یہ کہ انسان انسان سے پیار کرے۔ ان کے نزدیک انسان سے پیار، ہی خدا کی پہچان کا راستہ ہے۔
شیخ نور الدین نورانی ایک صوفی بزرگ تھے۔ وہ روحانیت اور انسانیت اور پیار کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔ کسی کا دل دکھانا یا کسی کو نقصان پہنچانا، ان کے نزدیک سب سے بڑا گناہ تھا۔ وہ انسان کی زندگی میں فطرت کا حسن دیکھنا چاہتے تھے۔
شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ میں نے تلوار توڑ دی اور اُس سے درانتی بنالی۔ یہ قول شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues