کشمیر: ایک جائزہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیرِ انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت کے کام آتی ہے۔
اسی طرح انھوں نے کہا کہ۔ جنگل ہوں گے تو اناج ہوگا۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جنگل سے بارش ہوگی اور بارش سے کھیتوں میں فصل اُگے گی ۔ اسی کے ساتھ اس قول کا ایک اخلاقی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ایک کو دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرنا ہے۔ باہمی تعاون کے بغیر اس دنیا میں کوئی تعمیری نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔
شیخ نورالدین نورانی کے اقوال کشمیری زبان میں ہیں۔ یہ اقوال، انسانیت اور روحانیت کی اسپرٹ سے بھر پور ہیں۔ کچھ مزید اقوال کا ترجمہ یہ ہے:
کام، کرودھ، لوبھ، موہ اور اہنکار یہ سب انسان کو دوزخ میں بھیجنے کے لیے کافی ہیں۔ اپنے جسم کا سنگار کرنے سے من کا میل نہیں ہٹتا۔
ایک ہی ماں باپ کے بیٹے ہیں، ان کو خدا کا دامن تھامنا چاہیے۔ کیا مسلمان اور کیا ہندو، اللہ کی رحمت دونوں کے لیے برابر ہے۔
شیخ نورالدین نورانی کا زمانہ چودھویں صدی عیسوی کا نصف آخر اور پندرہویں صدی کا نصف اول ہے ۔ وہ ایک صوفی آدمی تھے۔ انھوں نے اپنے طریق کار کو ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ۔ میں نے تلوار توڑ دی اور اس سے درانتی بنالی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ میں نے تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن اور محبت کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر نہ صرف ایک پر امن علاقہ بن گیا، بلکہ وہاں اسلام اتنی تیزی سے پھیلا کہ کشمیر کی بہت بڑی اکثریت اسلام کے دائرے میں داخل ہوگئی۔ لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ اُبھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی’’ درانتی‘‘ کو توڑ کر اُس سے ’’تلوار‘‘ بنالی۔ انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلا دیا۔ جس کا نتیجہ اب بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ اس خود ساختہ جہاد کا نتیجہ ناقابل بیان نقصانات کی صورت میں نکلا۔ کشمیر میں ہندو اور
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues