Al-Risala · September 2007 · page 18

کشمیر: ایک جائزہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸

مسلمانوں کے درمیان خوش گوار تعلقات ختم ہو گئے ۔ سیاحت کی انڈسٹری پر تباہ کن اثر پڑا ۔ اقتصادی ترقی رک گئی ۔ دعوت کا عمل ختم ہو گیا ۔ لوگوں کے اندر مایوسی اور منافقت پیدا ہو گئی ۔ ایک لاکھ سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں ، وغیرہ ۔

کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے سے ایک مہینے پہلے میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں کے ’ٹیگور ہال‘ میں میری تقریر ہوئی۔ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ یہاں مسلح تحریک شروع ہونے والی ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں پیشگی طور پر یہ کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک بد و مدینہ آیا اور اُس نے مسجد نبوی میں پیشاب کر دیا۔ رسول اللہ نے اُس کے خلاف کوئی سخت کارروائی نبیس کی۔ آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ جہاں اس نے گندہ کیا ہے اُس پر پانی بہا دو، وہ صاف ہو جائے گا۔ اس حسن اخلاق کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بدو اور اس کا پورا قبیلہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا ۔ میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام نے جو نتیجہ پانی بہا کر حاصل کیا تھا، اُس کو آپ خون بہا کر حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ اور ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔

اب اس تقریر پر تقریبا ہیں سال گزر چکے ہیں ۔ اللہ کی توفیق سے جو کچھ میں نے اُس وقت کہا تھا، وہ اب لفظ بہ لفظ واقعہ بن چکا ہے ۔ لوگ اندر سے اپنی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں، لیکن اب بھی وہ کھلے طور پر اس کا اعتراف نہیں کرتے ۔

پاکستان کے مشہور روز نامہ ’نوائے وقت‘ کے سنڈے میگزین (13 مئی 2007) کے صفحہ دو پر ایک مضمون چھپا ہے ، اس کے لکھنے والے مسٹر طارق اسمعیل ساگر ہیں ۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: ہارٹ ٹو ہارٹ کا نفرنس اور مجاہد اول اس مضمون کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں کشمیری جہاد کے لیڈر سردار عبدالقیوم خان اور انڈیا میں کشمیری جہاد کے لیڈر میر واعظ عمر فاروق، دونوں مسلح جہاد سے تائب ہو کر اب امن کی باتیں کر رہے ہیں ۔ اب وہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے کو چھوڑ چکے ہیں ۔ مضمون میں سردار عبدالقیوم خان کی طرف سے یہ الفاظ نقل کیے گیے ہیں : ’’موجودہ دور میں کشمیر کی آزادی کی بات کرنا، احمقانہ سوچ ہے‘‘۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page